.

سعودی عرب کا "بوشہر" ایرانی جوہری ری ایکٹر سے متعلق تمام رپورٹیں جاری کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے لیے سعودی عرب کے مستقل مندوب شہزادہ عبداللہ بن خالد بن سلطان بن عبدالعزیز نے جوہری سیکورٹی کے شعبے میں مذکورہ ایجنسی کی کوششوں کو سراہا ہے۔ شہزادہ عبداللہ نے جو آسٹریا میں سعودی عرب کے سفیر بھی ہیں، مطالبہ کیا ہے کہ ایران میں بوشہر کے ایٹمی ری ایکٹرز کی سیکورٹی سے متعلق تمام رپورٹیں جاری کی جائیں۔

سعودی عرب کا یہ موقف ویانا میں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے مندوبین کے حالیہ اجلاس میں سامنے آیا۔

سعودی مندوب نے اپنے خطاب میں باور کرایا کہ مملکت نے ہمیشہ سے جوہری سیکورٹی کی انتہائی اہمیت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب بجلی کی پیداوار کے میدان میں جوہری توانائی کا سہارا لینے کے لیے ترتیب دیے گئے نیشنل نیوکلیئر پروگرام کی منصوبہ بندی میں جوہری سیکورٹی کے تمام تر پہلوؤں کو مدّ نظر رکھ رہا ہے۔ ان تیاریوں کے سلسلے میں ایک آزاد نوعیت کے ادارے کے طور پرNuclear and Radiological نگراں اتھارٹی قائم کی گئی ہے۔ سعودی عرب جوہری سیکورٹی کے شعبے میں مقرر کردہ تمام عالمی معیارات کی پاسداری کر رہا ہے تا کہ انسانوں اور ماحولیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

شہزادہ عبداللہ نے آئی اے ای اے کی جانب سے رکن ممالک کو پیش کی جانے والی قانونی اور تکنیکی معاونت اور مشاورت کی فراہمی کو سراہا۔ انہوں نے باور کرایا کہ پر امن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کا استعمال کرنا تمام ممالک کا حق ہے۔ اس سلسلے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ جوہری تنصیبات میں سیکورٹی کی اعلی ترین معیار کو یقینی بنایا جائے۔

سعودی مندوب کے مطابق ایران واحد ملک ہے جس کے پاس ایک سرگرم جوہری اسٹیشن موجود ہے اور وہ آج کی تاریخ تک جوہری سیکورٹی کے سمجھوتے میں شامل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں بوشہر کے ایٹمی ری ایکٹرز سے متعلق رپورٹوں اور معلومات کے نہ ہونے پر ہماری تشویش فطری بات ہے۔ اس سلسلے میں جوہری ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے لازمی اقدامات کا بھی کچھ پتہ نہیں ہے۔ بالخصوص جب کہ بوشہر ری ایکٹرز کے اطراف کا علاقہ وقتا فوقتا زلزلوں کا سامنا کرتا رہتا ہے۔ اس صورت حال میں بھیانک نتائج سامنے آ سکتے ہیں جس کے انجام سے پورا علاقہ غیر محفوظ ہو گا۔

شہزادہ عبداللہ نے کہا کہ ایران میں بوشہر کے ری ایکٹرز میں جوہری حادثے یا تابکاری کے اخراج کی صورت میں اس کے اثرات ایران سے نکل کر نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ دنیا کے بقیہ ممالک کو بھی لپیٹ میں لے لیں گے۔ اس کے اثرات انسانی، ماحولیاتی اور اقتصادی جوانب پر مرتب ہوں گے۔