.

فرانس کے صدر نے ہسپانیہ کے بادشاہ سے مصافحہ کیوں نہیں کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بعض لوگوں نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ کرونا وائرس سے برپا ہونے والی افراتفری دنیا بھر میں سربراہان کے استقبال کے پروٹوکول کو بھی متاثر کرے گی۔ تاہم بدھ کی شام فرانسیسی صدر اور ہسپانوی بادشاہ کے درمیان ملاقات کے دوران ایسا ہی کچھ دیکھنے میں آیا۔

فرانسیسی صدر عمانوئل ماکروں نے الیزے پیلس کے میدان میں ہسپانیہ کے شاہ فلپ کے ساتھ مصافحے سے اجتناب برتا۔ مہمان سربراہ کے استقبال کے موقع پر ماکروں نے اپنی ہتھیلیوں کو نیچے رکھتے ہوئے ہسپانیہ کے شاہ اور ملکہ کے سامنے تھوڑا سا جھکنے پر اکتفا کیا۔ اس موقع پر فرانس کے صدر نے روایتی مصافحے کے بجائے بھارتیوں کے انداز سے ہاتھ جوڑ کر "نمستے" کیا۔

اس دوران ماکروں کی اہلیہ نے جو اُن کے پہلو میں کھڑی تھیں ہسپانیہ کی ملکہ لیٹزیا کی جانب ہوائی بوسہ (فلائنگ کِس) دیا۔

واضح رہے کہ یورپ میں صحت عامہ کے حکام کی جانب سے جاری ہدایات میں مصافحے سے گریز کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر روک لگانا ہے جو جلد کے چُھونے کے راستے منتقل ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ منگل کے روز تک فرانس میں کرونا وائرس کے 1784 کیس سامنے آئے۔ ان میں 33 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ دوسری جانب ہسپانیہ میں کرونا وائرس کے 2000 سے زیادہ کیسوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔

فرانس کی وزارت صحت کے مطابق متاثرین میں سے 86 کی حالت تشویش ناک ہے۔ اس سے قبل مذکورہ وزارت نے اعلان کیا تھا کہ فرانس کے وزیر ثقافت فرینک ریستر بھی کرونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان کے علاوہ پارلیمنٹ کے 5 ارکان کے وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے۔