.

حوثیوں کو دہشت گردی پر اکسانے والا ایرانی جنرل کرونا وائرس کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کا ایک اور جنرل ناصر شعبانی کرونا وائرس کا شکار ہو گیا ہے۔ میجر جنرل ناصر شعبانی یمن کے حوثی باغیوں کو تیل بردار خلیجی جہازوں پر حملوں اکسانے میں شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے حوثی باغیوں کو سعودی عرب کے تیل بردار جہازوں پر حملوں اور سعودی عرب پر میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے حملوں کی ترغیب دی تھی۔

جنرل شعبانی مختلف شعبوں اور علاقوں میں پاسدارن انقلاب میں 37 سال سے فرائض انجام دے رہے ہیں ایرانی دارالحکومت تہران کی سیکیورٹی کے ذمہ دار 'ثاراللہ' فوجی اڈے کی نگرانی انہی کے پاس تھی۔

ان کی ذمہ داریوں کا آغاز صوبہ مازندران کے امول میں پاسداران انقلاب کے ایک کمانڈر کے طورپر ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے سنہ 1981ء میں ایرانی کمیونسٹ تنظیموں کے خلاف کریک ڈائون کی قیادت کی۔ یہ گروپ امول غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ خونی جنگ "ایرانی کمیونسٹ یونین" کے عسکریت پسندوں کی شکست پر ختم ہوئی۔

ایران اور عراق کے مابین 8 سالہ جنگ نے ناصر شعبانی کے پاسداران انقلاب کی حیثیت کو مستحکم کیا اور مغربی ایران میں چوتھی کور کا کمانڈر، کرمان شاہ اور عیلام صوبوں کا انچارج مقرر کیا گیا۔ سنہ 1988 ء میں ایران - عراق جنگ کے اختتام پر شعبانی نے اس وقت مجاھدین خلق کے خلاف کارروائیوں میں ذاتی طور پر حصہ لیا تھا۔

ایران-عراق جنگ کے خاتمے کے دو سال بعد اور کویت پر عراقی حملے اور آپریشن ڈیزرٹ اسٹارم میں امریکی فوج کے ذریعہ عراقی فوج کی شکست کے بعد پاسداران انقلاب نے شیعہ بغاوت سے نمٹنے اور مخالفین کو صدام حسین کو گرانے میں مدد دینے کی کوشش کی۔ تاہم ناصر شعبانی نے چوتھی کور میں جو آپریشن انجام دیئے وہ ناکام رہے اور بالآخر صدام کے شیعہ بغاوت کچلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

بعد میں ناصر شعبانی کو تہران طلب کیا گیا اور انہیں مزید اہم ذمہ داریوں پر مامور کیا گیا۔ شعبانی تہران اور ملک کے دوسرے علاقوں میں حکومت کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں کو کچلنے میں بھی پیش پیش رہے۔

انہوں نے ایرانی خبر رساں اداروں کو اپنے بیانات میں کہا تھا کہ حوثی گروپ کا دو سعودی آئل ٹینکروں کو ان کی ہدایت پرنشانہ بنایا تھا۔