.

افغان حکومت نے طالبان قیدیوں کی رہائی مؤخر کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کی حکومت نے طالبان تحریک کے پانچ ہزار قیدیوں کی بتدریج رہائی کا عمل مؤخر کر دیا ہے۔ پانچ ماہ پر محیط اس عمل کا آغاز گذشتہ روز (ہفتے کو) ہونا تھا۔اس پیش رفت کے نتیجے میں مستقبل میں فریقین میں مذاکرات بھی تاخیر کا شکار ہو جائیں گے۔

افغان قومی سلامتی کے ترجمان جواد فیصل نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ "جن قیدیوں کو رہا کیا جائے گا،ہمیں اُن کے ناموں کی فہرستیں موصول ہو گئی ہیں،ہم ان فہرستوں کی تصدیق چاہتے ہیں اور اس کے لیے وقت درکار ہو گا"۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اس عمل کی تکمیل کے لیے قیدیوں کی رہائی کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔ہم امن چاہتے ہیں اور اس بات کی بھی ضمانت چاہتے ہیں کہ یہ لوگ لڑائی کی جانب نہ لوٹ جائیں۔‘‘

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں 29 فروری کو امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔ اس کی ایک شق کے تحت طالبان کی حراست میں موجود افغان فورسز کے ایک ہزار اہل کاروں کے بدلے طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ افغان حکومت نے اس سمجھوتے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

اس نکتے کی مسلسل مخالفت کے باوجود افغان صدر اشرف غنی نے بدھ کے روز ایک صدارتی آرڈی ننس پر دستخط کیے تھے۔انھوں نے خیر سگالی کے جذبے کے تحت یہ تجویز پیش کی ہے کہ روزانہ 100 قیدیوں کے بدلے میں طالبان کے 1500 قیدی رہا کر دیے جائیں۔

اس اقدام کا مقصد طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہے۔ بعد ازاں بقیہ قیدیوں کی رہائی آیندہ چند ماہ میں اس شرط کے ساتھ عمل میں لائی جائے گی کہ "تشدد میں بڑے پیمانے پر کمی واقع ہو"۔

افغان طالبان نے صدر اشرف غنی کی اس پیش کش کو مسترد کر دیا تھا۔طالبان کے ترجمان نے کہا کہ تمام قیدیوں کو ایک ساتھ رہا کیا جانا چاہیے اور یہ عمل افغان داخلی بات چیت سے قبل انجام دیا جائے۔

یہ مجوزہ بات چیت کابل حکومت ،افغان طالبان اپوزیشن اور سول سوسائٹی کے درمیان ہوگی اور اس میں جنگ زدہ ملک میں مستقبل میں نظام حکومت کے حوالے سے غور کیا جائے گا۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کو دوحہ سمجھوتے کی "خلاف ورزی" سمجھا جائے گا۔

دوحہ سمجھوتے کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی منظوری دی ہے۔اس میں واشنگٹن کی جانب سے یہ وعدہ بھی شامل ہے کہ آیندہ 14 ماہ کے دوران افغانستان سے غیر ملکی افواج کا مکمل طور پر انخلا عمل میں لایا جائے گا۔ اس کی شرط یہ ہے کہ افغان طالبان سیکورٹی کے ضمن میں اپنے وعدوں کی پاسداری کریں،افغان داخلی بات چیت میں حصہ لیں۔

یہ بات چیت گذشتہ منگل کو شروع ہونا تھی۔ تاہم فریقین کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد اس بات چیت کو عملی طور پر مؤخر کر دیا گیا ہے۔