.

سعودی عرب :298 افراد بدعنوانیوں کے الزام میں گرفتار، 10 کروڑ ڈالراینٹھنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں انسدادِ بدعنوانی کمیشن نے 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ مالیت کی بدعنوانیوں کے الزام میں 298 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

کمیشن نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے بدعنوانیوں کے الزام میں 674 افراد کے بیانات قلم بند کیے تھے۔ان میں 298 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان پر فردِ جُرم عاید کی گئی ہے۔

کمیشن کے مطابق ان افراد کے خلاف مختلف مالیاتی جرائم ،بہ شمول رشوت ستانی ،قومی خزانے میں خرد بُرد ، سرکاری وسائل کے ضیاع اور سرکاری عہدوں کے ناجائز استعمال کے الزامات پر فردِ جُرم عاید کی گئی ہے۔

تحقیقات کے مطابق ان میں آٹھ فوجی افسروں سمیت 16افراد سعودی عرب کی وزارت دفاع میں سرکاری ٹھیکوں کے غلط استعمال ،منی لانڈرنگ اور رشوت خوری کے ملزم پائے گئے ہیں۔ان میں ایک میجرجنرل اور بعض ریٹائرڈ فوجی افسر بھی شامل ہیں۔انھوں نے 2005ء سے 2015ء تک ان جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔

گرفتار کیے گئے افراد میں سے 21 نے سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں نظامتِ عامہ صحت میں مالیاتی اور انتظامی کرپشن کا ارتکاب کیا تھا۔ان میں دو عورتیں اور تین مقامی افراد بھی شامل ہیں۔