قُم میں زیرتعلیم چینی طلبہ کرونا وائرس پھیلانے کا سبب بنے:ایرانی سُنی عالم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران کے معروف سنی عالم مولوی عبدالمحید نے کہا ہے کہ قُم شہر میں ایک مذہبی مدرسے میں زیر تعلیم چینی طلبہ ملک میں کرونا وائرس پھیلانے کا سبب بنے ہیں۔

انھوں نے جمعہ کو اپنی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو بیان پوسٹ کیا تھا۔اس میں انھوں نے کہا کہ ’’یہ معروف بات ہے،قُم میں المصطفیٰ بین الاقوامی یونیورسٹی (ایم آئی یو) میں زیر تعلیم چینی طلبہ ایران میں کرونا وائرس لائے ہیں۔‘‘

مولوی عبدالحمید ایران کے سنی اکثریتی صوبہ سیستان ، بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان سے تعلق رکھتے ہیں اور وہیں جمعہ کی نماز کی امامت وخطابت کرتے ہیں۔

قُم میں ایم آئی یو ریاست کے فنڈ سے چلنے والی اہلِ تشیع کی دانش گاہ ہے۔اس میں اس وقت قریباً چالیس ہزار غیر ملکی طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

ایم آئی یو نے مولوی عبدالحمید کے دعوے کے ردعمل میں ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں ان کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ چینی طلبہ ایران میں کرونا وائرس کو پھیلانے کا سبب بنے ہیں۔

اس نے بیان میں کہا ہے کہ ’’ کیا کسی عہدہ دار نے اس طرح کا کوئی دعویٰ کیا ہےیا کسی نے کوئی ثبوت پیش کیا ہے؟ایک مذہبی عالم کو تو اپنی رائے کا اظہار کرتے وقت زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔‘‘

واضح رہے کہ مشہد کی میڈیکل یونیورسٹی کے سربراہ محمد حسین بحرینی کا گذشتہ ماہ اس حوالے سے ایک بیان منظرعام پر آیا تھا۔اس میں انھوں نے کہا کہ ایم آئی یو میں زیر تعلیم سات سو چینی طلبہ سے قُم میں کرونا وائرس پھیلا ہے۔بعد میں مشہد یونیورسٹی نے اس بیان کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ محمد حسین بحرینی نے ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی حکام نے سب سے پہلے قُم ہی میں کرونا وائرس کے پھیلنے کی اطلاع دی تھی اور اس مہلک وائرس سے اسی شہر میں اب تک سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ قُم سے تعلق رکھنے والے منتخب رکن پارلیمان احمد امیرآبادی فرحانی نے 24 فروری کو ایک بیان میں کہا تھا کہ صرف ہمارے شہر میں مہلک وائرس سے 50 افراد موت کے مُنھ میں چلے گئے ہیں۔تب ایرانی حکام نے ملک بھر میں صرف 12 ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں