یمن نے دنیا کے سب سے بڑے ماحولیاتی المیے سے خبردار کر دیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن کی آئینی حکومت نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ الحدیدہ شہر میں راس عیسی بندرگاہ سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر لنگر انداز تیل بردار جہاز "صافر" سے تیل کے رساؤ یا جہاز میں دھماکے کی صورت میں دنیا کا سب سے بڑا ماحولیاتی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے اتوار کی شام جاری ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ حوثی ملیشیا نے اقوام متحدہ کے ماہرین کی ٹیم کو تیل بردار جہاز "صافر" کے معائنے اور اس کی مرمت سے مسلسل روکا ہوا ہے۔ جہاز پر دس لاکھ بیرل سے زیادہ تیل لدا ہوا ہے۔

یمنی وزیر کے مطابق تکنیکی رپورٹوں میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ تیل بردار جہاز کے زنگ سے گل جانے پر رساؤ کی صورت میں 13.8 کروڑ لیٹر تیل بحیرہ احمر کے پانی میں شامل ہو سکتا ہے۔ یہ 1989 میں الاسکا میں تیل کے رساؤ کے سبب جنم لینے والے ماحولیاتی المیے سے چار گُنا زیادہ سنگین ہو گا۔ واضح رہے کہ 30 برس کے قریب گزر جانے کے بعد بھی وہ علاقہ پوری طرح ماحولیاتی اثرات سے پاک نہیں ہو سکا۔

الاریانی نے مزید بتایا کہ رساؤ کے نتیجے میں الحدیدہ شہر کی بندرگاہ کئی ماہ کے لیے بند ہو جائے گی۔ علاوہ ازیں ایندھن اور ضرورت کی اشیاء کی قلت کا سامنا ہو گا۔ اس دوران ایندھن کی قیمت میں 800% اضافہ ہو جائے گا اور اشیاء خورد و نوش کی قیمتیں کئی گنا ہو جائیں گی۔ اس تمام صورت حال کے نتیجے میں یمن کی معیشت پر سالانہ 6 کروڑ اور آئندہ 25 برسوں میں 1.5 ارب ڈالر کا بوجھ پڑے گا۔

یمنی وزیر اطلاعات نے توقع ظاہر کی ہے کہ تیل بردار جہاز میں آگ لگنے کی صورت میں الحدیدہ شہر میں 30 لاکھ افراد زہریلی گیسوں سے متاثر ہوں گے۔ ان میں ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ 5 لاکھ افراد اور ان کے گھرانوں کے 17 لاکھ افراد شامل ہیں۔ اسی طرح الحدیدہ میں انسانی امداد کے شعبے میں کام کرنے والی 58 تنظیمیں اپنا کام روک دیں گی۔ اس کے نتیجے میں 70 لاکھ ضرورت مند افراد ان خدمات سے محروم ہو جائیں گے۔

لہذا ایسی صورت میں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد امداد اور بنیادی خدمات کے حصول کے لیے دوسرے شہروں کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے۔ اسی طرح 60 ہزار کے قریب کاشت کار اور ماہی گیر روزگار کی تلاش میں ساحل سے منتقل ہو کر دوسرے علاقوں میں چلے جائیں گے۔

الاریانی نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ماحولیاتی آفت کے خطرے سے بچاؤ کے لیے مؤثر طور پر اپنا کردار ادا کرے۔ اس لیے کہ مذکورہ المیے کے نقصانات یمن کے ساحلوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثی ملیشیا پر دباؤ ڈالے تا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین پر مشتمل فنی ٹیم تیل بردار جہاز صافر کا رخ کرے۔ گذشتہ پانچ برسوں سے اس جہاز کی معمول کی دیکھ بھال نہیں ہوئی ہے۔

تیل بردار جہاز "صافر" نے مارچ 2015 سے کام روک دیا تھا۔ اس پر 11 لاکھ بیرل تیل لدا ہوا ہے۔ اس تیل کے رساؤ کی صورت میں بڑی ماحولیاتی تباہی جنم لے سکتی ہے۔

الحدیدہ شہر میں راس عیسی کی بندرگاہ پر حوثی ملیشیا کا کنٹرول ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں