.

کرونا: تیونس نے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا، کئی علاقوں میں کرفیو نافذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے صدر قیس سیعد نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر ملک میں طبی ایمرجینسی نافذ کرتے ہوئے بعض علاقوں میں کرفیو کا اعلان کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کرونا سے بچائو کے لیے مزید اقدامات کریں گے۔

قیس سعید نےبُدھ کرونا سے بچائو کے لیے شام 6 بجے سے صبح 6 بجے تک کرفیو کا اعلان کیا ہے تاکہ کرونا کی وبا پر قابو پانے میں مدد کی جا سکے۔

فضائی اور سرحدوں کی بندش

تیونس کے وزیراعظم الیاس الفخاخ نے کہا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر بدھ سے غیر معمولی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم الفخفاخ نے کہا کہ کرونا کی روک تھام کے لیے کہ کارگو اور اجناس ترسیل کے سوا باقی تمام قسم کی ٹرانسپورٹ پرپابندی لگائی گئی ہے۔ زمینی اور فضائی حدود بند کی گئی ہیں۔ ملک بھر میں کھیلوں کی سرگرمیاں بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پوری قوم کو کرونا کی وبا کا سامنا ہے۔ پوری قوم کو کرونا وائرس کے خطرات کے تدارک کے لیے اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا۔خیال رہے کہ تیونس میں کرونا کے 24 مریضوں کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ چار ہزار افراد کو قرنطینہ منتقل کیا گیا ہے۔