.

کرونا وائرس کے اثرات:قطرائیرویز نے قریباً 200 ملازمین کو فارغ خطی دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر ائیرویز نے اسی ہفتے اپنے قریباً دو سو ملازمین کو فارغ خطی دے دی ہے۔یہ تمام ملازمین فلپائنی شہری ہیں اور قطر ہی میں مقیم ہیں۔

قطر کی قومی فضائی کمپنی کو مہلک وائرس کرونا پھیلنے کے بعد سے دوسری فضائی کمپنیوں کی طرح مالی خسارے کا سامنا ہے کیونکہ اس نے بہت سے روٹس پر اپنی پروازیں معطل کردی ہیں یا ان کی تعداد میں کمی کردی ہے۔

فلپائن کے لیبر سیکریٹری سلویسٹر بیلو نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا ہے کہ ’’قطر ائیرویز نے اچانک ان دو سو فلپائنیوں کو ملازمتوں سے فارغ کردیا ہے۔دوحہ میں لیبر اتاشی کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ از خود صورت حال کا جائزہ لیں کہ انھیں اضافی سمجھ کر کیوں فضائی کمپنی سے نکالا گیا ہے۔‘‘

قطر ائیرویز نے فوری طور پر اس بارے میں کوئی وضاحتی بیان جاری نہیں کیا ہے۔قطر ائیرویز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو گذشتہ جمعہ کو کرونا وائرس کے بارے میں ایک متنازع بیان دینے پر کڑی تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا۔انھوں نے اس مہلک وائرس کی موجودگی ہی سے انکار کردیا تھا۔

قطر میں مساجد اور دکانوں کی بندش

قطری حکومت نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے منگل کو مساجد کو بند کرنے اور جمعہ سمیت پنج وقتہ نمازوں کی باجماعت ادائی کو موقوف کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس نے یہ فیصلہ خطے کے دوسرے ممالک کی تقلیدمیں کیا ہے۔

قطر نے گذشتہ روز کرونا وائرس کو پھیلنے سے رونے کے لیے شاپنگ مالوں میں واقع بنکوں کی تمام شاخوں اور دکانوں کو دو ہفتے کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔تاہم کھانے پینے کی اشیاء کے اسٹور اور دوا خانے کھلے رہیں گے۔

قطری حکومت نے حجام کی دکانیں ، ہوٹلوں میں ورزش گاہیں اور پرچون کی دکانیں بھی بند کردی ہیں اور انڈسٹریل ایریا میں آیندہ چودہ روز کے لیے تمام سرگرمیاں معطل کردی ہیں۔