.

آسٹریلوی حکومت کو 2700 مسافروں کے بحری جہاز میں کرونا وائرس کی موجودگی پر بے چینی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا کی حکومت نے سڈنی کی بندرگاہ پر ایک بحری جہاز سے اترنے والے 2700 مسافروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے آپ کو سماجی حلقوں سے علیحدہ کر کے حکومتی اداروں سے رابطہ کریں۔ آسٹریلوی حکومت نے یہ اقدام مسافر جہاز میں سوار افراد کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کی اطلاع آنے کے بعد اٹھایا ہے۔

آسٹریلیا کے صوبے نیو سائوتھ ویلزکے حکام کے مطابق انہوں نے نیوزی لینڈ جانے والے بحری جہاز 'روبی پرنسس' کو کم خطرناک گردانتے ہوئے ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر میں اترنے کا موقع دیا تھا مگر انہیں بعد میں معلوم ہوا کہ تین مسافر اور عملے کا ایک رکن کرونا وائرس کا شکار ہیں۔

یہ کروز شپ سڈنی سے نیوزی لینڈ کا سفر کر رہی تھی جب اس کے مسافر بیمار پڑ گئے اور ان میں سے 13 کا ٹیسٹ لیا گیا۔

نیو سائوتھ ویلز کے وزیر صحت بریڈ ہازرڈ کے مطابق "مسافروں کا شہری علاقوں میں میل جول ہمارے لئے تشویش کا باعث ہے۔ اس بات کے امکانات بھی موجود ہیں کہ کرونا وائرس سے متاثرہ مسافروں کی تعداد چار سے زیادہ ہو۔"

روبی پرنسس نامی یہ بحری جہاز اس وقت بھی سڈنی کے ساحل پر لنگر انداز ہے جس میں 1100 افراد پر مشتمل عملہ موجود ہے۔ صوبائی وزیر صحت کے مطابق اس مسافر جہاز کی مالک کمپنی اس معاملے کو اپنے طور پر حل کر رہی ہے۔