.

چالیس افریقی ممالک 'کرونا' وائرس کی لپیٹ میں آگئے، ایک ہزار مریض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

براعظم افریقا کے 54 میں سے 40 ممالک اس وقت کرونا وائرس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔اب تک افریقی ملکوں میں کرونا کے کم سے کم ایک ہزار مصدقہ مریض سامنے آئے ہیں۔

براعظم افریقا پراس وائرس کا اثر ایشیاء اور یورپ کے مقابلے میں کم ہے اور افریقا میں زیادہ تر کیسز غیر ملکیوں یا بیرون ممالک سے لوٹنے والے لوگوں کے ذریعے پھیلے ہیں۔ اس وقت کرونا وائرس ترقیافتہ ممالک میں تباہی پھیلا رہا ہے۔ خدشہ ہے کہ اگر افریقی ملکوں میں یہ وبا پھیل گئی تو اس کے نتیجے میں جانی نقصان زیادہ ہوسکتا ہے کیونکہ افریقی ملکوں کے پاس کرونا جیسی وباء سے لڑنے اور اس کامقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں۔

افریقی ملک کانگو کرونا کا شکار ہونے والے ایک شخص کی موت کی تصدیق کی ہے۔ افریقی ملکوں میں کرونا کی یہ پہلی ہلاکت بتائی جاتی ہے، جبکہ برکینا فاسو میں دو نئے کیس سامنے آئے ہیں آئیوری کوسٹ نے کرونا روکنے کے لیے سرحدیں بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

موریتانیہ اور سینیگال نے مشترکہ معاہدے کے ذریعہ 'کوویڈ 19' کے خطرات کم کرنے کے لیے اپنی سرحدوں کو مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اگرچہ انگولا نے اس ہفتے اپنی فضائی حدود، بری اور سمندری سرحدیں بند کردی تھیں لیکن نامیبیا کے میڈیا نے نمیبیائی صدر حج گینگوب کی افتتاحی تقریب میں صدر گاؤ لوورنکو کو ایک تقریب میں شرکت کرتے دکھایا ہے۔ اس تقریب میں بوٹسوانا کے پڑوسی صدر مکویتسی مسیسی نے بھی شرکت کی ، جن کے ملک نے اس ہفتے تمام سرکاری ملازمین کے لیے بین الاقوامی سفر معطل کردیا تھا۔

انگولا کے وزیر صحت صحت سلویہ لاٹوکوٹا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں پہلے کرونا کے دو کیسز مرد تھے جو پرتگال سے 17 اور 18 مارچ کو واپس آئے تھے۔

برکینا فاسو میں اموات

برکینا فاسو میں اب سب صحارا افریقا کے کسی بھی افریقی ملک میں وائرس سے سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ اب تک بورکینا فاسو میں 64 افراد اس بیماری کا شکار ہوئے ہیں۔

برکینا فاسو میں متعدد وزرا کا کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ان میں وزیر خارجہ بھی شامل ہیں۔

جمعہ کو صدر روچ مارک کرسچن کپور نے فوج اور کارگو کے علاوہ ملک میں دو بین الاقوامی ہوائی اڈوں کو دو ہفتوں کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق بورکینا فاسوس اور دوسرے افریقی ملکوں میں کرونا جیسی بیماری کی روک تھام اور اس سے بچائو کے لیے کوئی ٹھوس ہنگامی تربیت نظام موجود نہیں۔