.

کرونا وائرس،امریکا کی مدد کی پیش کش کو مسترد کردیا جائے گا: علی خامنہ ای

امریکی عہدے دار’جھوٹے‘اور’فراڈیے‘ہیں،ایران ہر سطح پر چیلنجز اور مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے مدد کی کسی بھی پیش کش کو مسترد کردیا جائے گا۔انھوں نے اتوار کو ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ اس وقت امریکیوں کو خود اپنی مدد کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا:’’ امریکیوں نے حال ہی میں متعدد مواقع پر کہا ہے کہ وہ ہمیں (ایران کو) ادویہ کی شکل میں مدد دینے کو تیار ہیں۔یہ بہت ہی خطرناک ریمارکس ہیں۔‘‘

انھوں نے امریکیوں سے مخاطب ہو کر کہا:’’آپ کو خود ادویہ کی قلت کا سامنا ہے۔اگر آپ کے پاس کوئی چیز ہے تو آپ اس کو خود ہی استعمال کرلیں۔‘‘

خامنہ ای نے کہاکہ امریکا پر کرونا کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔انھوں نے امریکا کے خلاف اس الزام کا اعادہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے پیچھے اسی کا ہاتھ کارفرما ہے۔

انھوں نے کہا:’’تم پر اس وائرس کو پیدا کرنے کا الزام ہے،میں نہیں جانتا کہ اس میں کہاں تک صداقت ہے لیکن کون ساملک اس الزام کے ہوتے ہوئے تم پر اعتماد کرے گا۔‘‘

انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ امریکا انسانی امداد کی شکل میں ایران کو ایسی ادویہ بھیج سکتا ہے جن سے کرونا وائرس ملک میں لمبے عرصے کے لیے پھیل سکتا اور رہ سکتا ہے۔

خامنہ ای نے کہا:’’امریکی عہدے دار’جھوٹے‘اور ’فراڈیے‘ہیں۔ ایران ہر سطح پر چیلنجز اور مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ حکام نے ان صلاحیتوں کو شناخت کر لیا ہے۔‘‘

ایران کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ تین ممالک میں سے ایک ہے۔ہفتے کے روز تک ایرانی حکام نے اس مہلک وائرس سے 1556 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی اور 20610 افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔