.

ایرانی سپریم لیڈر کرونا وائرس پر ’جھوٹ‘ بول رہے ہیں: مائیک پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے بارے میں ’کذب بیانی‘ سے کام لے رہے ہیں۔

انھوں نے ایرانی سپریم لیڈر کے اتوارکے ایک نشری خطاب کے ردعمل میں سوموار کو سخت بیان جاری کیا ہے۔اس میں انھوں نے ایران کی فضائی کمپنی ماہان ائیر کو دہشت گرد قراردیا ہے جو ان کے بہ قول چین سے ’’ووہان وائرس‘‘ کو ایران میں منتقل کرنے کا سبب بنی ہے اور اس نے چین میں وائرس پھیلنے کے بعد بھی اپنی پروازیں جاری رکھی تھیں۔

مائیک پومپیونے کہا:’’ ایرانی نظام نے اپنے عوام اور دنیا سے کرونا وائرس کے کیسوں اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں جھوٹ بولنے کا سلسلہ جاری رکھا ہو اہے۔ بدقسمتی سے ایرانی نظام کی بیان کردہ ہلاکتوں سے کہیں زیادہ اموات ہوئی ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ امریکا اب بھی ایران کو مدد دینے کو تیار ہے اور کرونا وائرس کے علاج کے لیے ویکسین کی تیاری پر ان تھک کام کررہا ہے۔

وزیر خارجہ پومپیو کا کہنا تھا کہ ’’خامنہ ای نے امریکا کی مدد کی پیش کش کو اس لیے مسترد کیا ہے کہ وہ بدستور سازشی نظریات پر پوری یک سوئی سے کام کررہے ہیں اور انھیں ایرانی عوام کی کچھ فکر نہیں ہے۔‘‘

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے گذشتہ روز کہا تھا کہ امریکا کی جانب سے مدد کی کسی بھی پیش کش کو مسترد کردیا جائے گا۔انھوں نے کہاکہ امریکا پر کرونا کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔انھوں نے امریکا کے خلاف اس الزام کا اعادہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے پیچھے اسی کا ہاتھ کارفرما ہے۔

خامنہ ای کا کہنا تھا کہ :’’امریکی عہدے دار’جھوٹے‘اور ’فراڈیے‘ہیں۔ ایران ہر سطح پر چیلنجز اور مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ حکام نے ان صلاحیتوں کو شناخت کر لیا ہے۔‘‘

مائیک پومپیو نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکا ایران کی جانب سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کو قرضے کے حصول کے لیے دی گئی درخواست پر غور کو تیار نہیں تھا۔انھوں نے ایرانی نظام پر اپنے مالی وسائل کو بیرون ملک دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے صرف کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کو آئی ایم ایف میں ویٹو کا اختیار حاصل ہے اور وہ اس کے بورڈ کے کسی بھی فیصلے کو مسترد کرسکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ ایران مہلک وائرس سے بری طرح متاثر ہوا ہے اور اس کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 18 سو سے زیادہ افراد اس وائرس سے لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔