.

سعودی عرب میں کرونا وائرس کے 51 نئے کیسوں کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت صحت نے سوموار کے روز مہلک وائرس کرونا کے 51 نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے۔مملکت میں اب اس مہلک وائرس کا شکار افراد کی تعداد 562 ہوگئی ہے۔

سعودی وزارتِ صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العالی نے بتایا ہے کہ ان نئے کیسوں میں 18 کا تعلق دارالحکومت الریاض ، 12 کا مکہ مکرمہ ،تین کا الطائف اور پانچ کا بیشہ سے ہے۔الدمام اور القطیف میں تین، تین اور جیزان میں دو نئے کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

نجران اور القنفذہ میں ایک، ایک فرد کے کرونا وائرس کا شکار ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔وزارت صحت کے مطابق سعودی عرب میں اب تک کرونا وائرس کا شکار 19 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔

سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اس مہلک وبا کوپھیلنے سے روکنے کے لیے ملک بھر میں 21 روز تک رات کا کرفیو نافذ کردیا ہے۔وزارت داخلہ نے ان کے فرمان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت میں رات سات بجے سے صبح چھے بجے تک کرفیو نافذ ہوگا اور جو کوئی بھی اس کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا،اس پر 10 ہزار ریال (2663 ڈالر) جرمانہ عاید کیا جائے گا اور اگر کسی نے دوبارہ اس کی خلاف ورزی کی تو اس کو جیل کی ہوا کھانا پڑے گی اور ساتھ دُگنا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

حکام نے شہریوں پر زوردیا ہے کہ وہ کرفیو کے مذکورہ اوقات میں اپنے گھروں ہی میں مقیم رہیں، سماجی روابط سے گریز کریں اور کسی ناگزیر ضرورت ہی کی صورت میں گھر سے باہر نکلیں۔

سعودی عرب کی وزارت برائے امور خارجہ نے اتوار کو بیان میں کہا تھا کہ مملکت میں کرونا وائرس کے 33 فی صد کیس پہلے سے اس مہلک وبا کا شکارافراد سے میل ملاپ اور سماجی روابط کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔وہ شادی کی تقریبات میں شریک ہوئے تھے،انھوں نے کسی متوفیٰ کی نماز جنازہ میں شرکت کی تھی یا اپنے اپنے خاندانوں کی مختلف تقریبات میں شریک ہوئے تھے اور پھرکرونا وائرس سے متاثرہ افراد سے رابطے کی وجہ سے خود بھی بیمار پڑ گئے ہیں۔