.

یو اے ای میں کرونا وائرس کے 45 نئے کیسوں کا اندراج ، مجموعی تعداد 198 ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے سوموار کو کرونا وائرس کے 45 نئے کیسوں کی اطلاع دی ہے۔یو اے ای کی وزارت صحت کی ترجمان ڈاکٹر فریدہ الحسنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب ملک میں کرونا وائرس کے مریضوں تعداد بڑھ کر 198 ہوگئی ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ کرونا وائرس کا شکار ہونے والے تمام 45 افراد کی حالت مستحکم ہے۔ان کا تعلق فلپائن ، عراق ، تُونس ، شام ، کویت ، اٹلی ، پیرو ، ایتھوپیا ، لبنان ، صومالیہ اور برطانیہ سے ہے۔

ان کے علاوہ دو کینیڈین ، تین بنگلہ دیشی ، چار پاکستانی ،سات اماراتی ، چار امریکی اور سات بھارتی شہری بھی کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔سوڈان ، مصر، آئیرلینڈ ، روس ، ہرزی گووینا، فرانس اور پولیس سے تعلق رکھنے والے مکین بھی کرونا وائرس کے متاثرین میں شامل ہیں۔

ترجمان کے مطابق ان نئے کیسوں میں ایک شخص حال ہی میں بیرون ملک سے لوٹا تھا لیکن اس نے واپسی پر خود کو الگ تھلگ کرنے کے پروٹوکول کی پاسداری نہیں کی اور اپنے خاندان ، دوستوں اور ساتھی ورکروں میں سے سترہ افراد میں اس مہلک وائرس کو منتقل کردیا ہے۔

یو اے ای کی حکومت نے قبل ازیں تمام شہریوں ، مکینوں اور سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے گھروں ہی میں مقیم رہیں اور کسی ناگزیر کام کی صورت ہی میں باہر نکلیں۔

ڈاکٹر الحسنی نے خبردار کیا ہے کہ اس پابندی کی خلاف ورزی کے مرتکبین کو یو اے ای کے کرونا کی مہلک وبا سے نمٹنے کے لیے قانون کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

احتیاطی تدابیر

قبل ازیں متحدہ عرب امارات کی وزارتِ صحت نےتمام شاپنگ مال ، خریداری مراکز ، تجارتی ادارے اور کھلی مارکیٹیں دو ہفتے تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔تاہم مچھلی بازار، سبزی اور گوشت کی مارکیٹیں اس حکم سے مستثنا ہوں گی اور کھلی رہیں گی۔

ریستوران بھی دو ہفتے تک بند رہیں گے اور وہ صرف گھروں میں کھانے پینے کی اشیاء مہیا کرسکیں گے۔یو اے ای کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اتوار سے دوہفتے تک تمام مسافر اور ٹرانزٹ پروازوں کی آمد ورفت پر پابندی عاید کردی ہے۔

یو اے ای نے 16 مارچ کوکرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کئی ایک اقدمات کا اعلان کیا تھا۔اس نے بہت سے سرکاری اور نجی مقامات ،جگہوں ، سیر گاہوں اور ہوٹلوں کو بند کردیا تھا۔

یو اے ای میں شامل دبئی نے ریستورانوں کو یہ ہدایت کی تھی کہ وہ کھلی جگہوں پر رات اور دن میں کھانے پینے کی اشیاء کی فروخت اور خدمات کا سلسلہ موقوف کردیں۔دبئی نے تمام تھیم پارک ،تفریح گاہیں ،نائٹ کلب اور سینماگھر بند کردیے تھے اور شادی کی تقریبات اور کنسرٹس پر بھی مارچ کے آخرتک پابندی لگا دی تھی۔امارات نے تمام جِم ، کھیلوں کے مراکز اور سپرنگ کیمپ بھی بند کردیے ہیں۔ابو ظبی نے بھی اہم سیاحتی مقامات اور سیرگاہیں بند کردی ہیں۔ان میں لوفرے میوزیم بھی شامل ہے۔