.

سعودی وزارت صحت کا قیام 102 سال قبل کیوں عمل میں لایا گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج سے 102 سال پہلے مارچ سنہ 1918ء کو جب جزیرۃ العرب میں 'ہسپانوی انفلوئنزا' پھیلا تو اس وقت صحت کے حوالے سے خطے ہی نہیں پوری دنیا کے حالات دگر گوں تھے۔ 'ہسپانوی انفلوئنزا' کی وباء ایسی پھیلی اس کے نتیجے میں پوری دنیا بالخصوص عرب خطے میں ہزاروں افراد کی جانیں لے لیں۔

ایک سو دو سال پیشتر مملکت سعود کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود نے اپنے گھر اور دفتر کو اسپتال میں تبدیل کر دیا۔ اس بیماری سے نجات کے لیے مملکت کے اندر اور باہر سے معالجین بلائے گئے۔

یہاں سے سعودی عرب میں صحت عامہ کونسل قائم کی گئی جس نے سات سال کام کیا۔ اسی کونسل کو بعد ازاں شاہ عبدالعزیز کی وفات سے تین سال قبل وزارت صحت میں تبدیل کیا گیا۔

سنہ 1918ء میں پھیلنے والے انفلوئنز کی وجہ سے اس سال کو مشکلات کا سال قرار دیا جاتا ہے۔ اس وباء نے تین ماہ تک سعودی عرب کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا۔ اس متعدی بیماری سے بچنے کےلیے لوگ شہروں سے پہاڑوں کی طرف بھاگ گئے اور ایک دوسرے سے دوری اختیار کرنے لگے۔

جزیرۃ العرب پر اپنے اقتدارکی گرفت مضبوط کرنے کے بعد شاہ عبدالعزیز نے یہاں کے باشندوں کو درپیش وباء سے نمٹے پر توجہ دی۔ اس وقت انہیں' سلطان آف نجد' کا لقب دیا جاتا تھا۔ ان کی دعوت پر اس وقت کے کئی نامی گرامی ڈاکٹر اور معالجین جزیرۃ العرب آئے اور انہوں نے اسپانوی انفلوئنزا سے نمٹنے کے لیے خدمات انجام دیں۔

ڈاکٹرز برائے مملکت

اسی سیاق میں 'ڈاکٹرز برائے مملکت' نامی ایک کتاب میں پال ارمیرڈینگ نے لکھا ہے کہ ڈاکٹر پال ہاریسن دوم کو دورہ الریاض کی دعوت ملی۔ اس وقت فلو کی وباء پوری دنیا میں پھیل چکی تھی اور یہ جان لیوا فلوصحرائوں سے ہوتا ہوا سعودی عرب کے شہر الریاض تک پہنچ چکا تھا۔ اگرچہ اس وقت شاہ عبدالعزیز ملک کی وحدت کے لیے کوشاں تھے مگر فلو کی وباء کی طرف بھی ان کی پوری توجہ تھی۔

مصنف نے مزید لکھا ہےکہ شاہ عبدالعزیز نے ڈاکٹر پال ارمیرڈینگ کا اپنے دفتر کے درمیانے سے کمرے میں والہانہ استقبال کیا۔ ڈاکٹر پال کو روایتی قہوہ پیش کیا گیا۔ اس موقع پر شاہ عبدالعزیز نے ڈاکٹر پال سے کہا کہ وہ ان کی خدمت کو اپنی ذات یا اپنی خاندان کی طبی خدمت کے لیے نہیں لینا چاہتے بلکہ وہ سعودی قوم کو اس وباء سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اسپتال کے قریب ہی ایک گھر ڈاکٹر پال کے لیے مختص کیا۔ شاہ عبدالعزیز فلو کا شکار ہونے والے افراد کا مفت علاج کرانا چاہتے تھے۔

خیال رہے کہ شاہ عبدالعزیز آل سعود نے 1913ء سے 1953ء تک دسیوں ڈاکٹروں کو بیرون ملک سے سعودی عرب میں بلایا۔ بیرون ملک سے آنے والے ڈاکٹروں نے صرف ایک سال میں 400 آپریشن کیے اور وہ 8 ہزار مریضوں کا ایک سال میں علاج کرتے۔

'شاہ عبدالعزیز کےعہد میں جزیرۃ نما عرب' نامی کتاب میں اس کے مصنف خیرالدین الزرکلی لکھتے ہیں کہ شاہ عبدالعزیز مرحوم عوام کی صحت کے حوالے سے بہت زیادہ محتاط رہتے۔ یہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ 1313ھ میں سعودی عرب میں صحت عامہ کونسل قائم ہوئی۔ اس وقت اس کا صدر دفتر مکہ میں قائم کیا گیا۔ اس کے بعد جدہ، الریاض، الاحساء اورعسیر میں اس کے مراکز قائم ہوئے۔ سات سال کے بعد اسے وزارت صحت میں تبدیل کردیا تھا۔ 1370ھ میں شاہ فیصل مرحوم نے وزارت صحت کے ادارے کو مزید وسعت دی اور اس کے زیرانتظام ملک میں نئے اسپتال قائم کیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں