کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والی سعودی لڑکی گرفتار

گرفتار لڑکی نے عوام الناس کو ولی الامر کی حکم عدولی پر اکسانے کی کوشش کی: استغاثہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے شام سات بجے سے صبح چھ بجے تک لگائے گئے کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والی سعودی لڑکی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پبلک پراسیکیوشن کے مطابق گرفتار شدہ لڑکی سے تفتیش جاری ہے۔ الزام ثابت ہونے پر اسے امن عامہ میں خلل ڈالنے کی سزا ہو سکتی ہے۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ امن عامہ میں خلل ڈالنا بڑا جرم ہے جس کے ارتکاب پر 5 سال قید اور 30 لاکھ ریال جرمانہ ہوسکتا ہے‘۔

قبل ازیں سعودی پبلک پراسیکیوشن نے کرفیو کی خلاف ورزی پر اکسانے والی سعودی لڑکی کو گرفتار کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ سوشل میڈیا کے مختلف ذرائع پر ایک مشہور سعودی لڑکی کا ویڈیو پیغام وائرل ہوا ہے جس میں اس نے لوگوں کو کرفیو کی خلاف ورزی پر اکسایا ہے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں لڑکی نے کہا ہے کہ ’10 ہزار کا جرمانہ رکھیں یا 10 لاکھ کا، میں تو گھر میں نہیں بیٹھوں گی‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’کرفیو کی پابندی کرنا میرے بس میں نہیں، میں گھر سے باہر نکلنے، لوگوں سے ملنے جلنے اور سیر وتفریح کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی‘۔

پبلک پراسیکیوشن نے مذکورہ لڑکی کی ویڈیو وائرل ہونے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ’مشہور لڑکی کو تلاش کر کے فوری طور پر گرفتار کیا جائے‘۔ پبلک پراسیکیوشن نے کہا ہے کہ ’لڑکی نے کرفیو توڑنے پر لوگوں کو اکسایا ہی نہیں بلکہ ملک کے ولی امر کے حکم کی خلاف ورزی پر بھی عوام الناس کو اکسانے کی کوشش کی ہے‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں