.

روس میں کرونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد آئینی اصلاحات پر ریفرینڈم ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین نے ملک میں کرونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد مجوزہ آئینی اصلاحات پر ریفرینڈم کو ملتوی کر دیا ہے۔

پہلے سے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق آئینی اصلاحات پر ریفرینڈم 22 اپریل کو منعقد ہونا تھا۔ صدر پوتین نے اس کی کوئی نئی تاریخ مقرر نہیں کی ہے اور کہا ہے کہ اب کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال کے جائزے کے بعد اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

انھوں نے بدھ کو قوم سے نشری خطاب میں کہا:حکومت یہ نہیں چاہتی ہے کہ ضروری کام کرنے والے روسیوں کے سوا لوگ گھروں سے باہر نکلیں۔انھوں نے کہا کہ اسٹور ، دوا خانے اور بنک کھلے رہیں گے۔

صدر پوتین کا کہنا تھا کہ ’’ عوام کی صحت ، زندگی اور تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔‘‘

روسی حکام نے بدھ کو کرونا وائرس کے 163 نئے کیسوں کی اطلاع دی ہے۔روس میں ایک دن میں اس مہلک وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی یہ سب سے زیادہ ہے۔اب ملک میں اس مہلک وبا کے متاثرین کی تعداد 658 ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ روس کی پارلیمان نے11 مارچ کو صدر ولادی میر پوتین کے مجوزہ آئینی ترامیم کے پیکج کی منظوری دی تھی۔

اب عوامی ریفرینڈم میں یہ مجوزہ آئینی ترامیم منظور کر لی جاتی ہیں اور ان پرعمل درآمد کیا جاتا ہے تو بیشتراختیارات پارلیمان اور وزیراعظم کو منتقل ہوجائیں گے۔سڑسٹھ سالہ ولادی میر پوتین 2024ء میں اپنی موجودہ چھے سالہ صدارتی مدت پوری ہونے کے بعد وزیراعظم کی حیثیت میں دوبارہ برسراقتدار آ سکیں گے۔

صدر پوتین نے ابھی یہ اعلان نہیں کیا ہے کہ اس کے بعد ان کے کیا ارادے ہیں۔ روس کے موجودہ آئین کے تحت پوتین 2012ء اور 2018ء میں دو مرتبہ مسلسل صدر منتخب ہوچکے ہیں اور وہ چھے سال کے لیے تیسری مرتبہ صدارتی انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔