.

کابل میں سکھ گردوارے پر مسلح افراد کا حملہ، 25 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سکھوں کے گردوارے [عبادت گاہ] پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں کم سے کم 25 افراد ہلاک ہو گیے۔

شدت پسند تنظیم داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، تاہم طالبان کے ترجمان نے ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں مذکورہ حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق افغانستان کی پارلیمان کے ایک رکن نے بدھ کو بتایا ہے کہ کچھ نامعلوم مسلح افراد جن کے ہمراہ خودکش بمبار بھی موجود ہیں، نے کابل میں سکھوں کے گردوارے پر حملہ کیا ہے۔

افغانستان کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغان سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور حملہ آوروں پر قابو پانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ترجمان کے مطابق افغان سیکیورٹی فورسز نے عمارت کی پہلی منزل کو کلیئر کرا لیا ہے لیکن عمارت میں کئی شہریوں کے موجود ہونے کی وجہ سے فورسز احتیاط سے کام لے رہی ہیں اور لوگوں کی جانیں بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

افغانستان کی پارلیمان کے سکھ رکن نریندر سنگھ خالصہ نے کہا ہے کہ انہیں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اب تک چار حملہ آوروں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جب کہ عمارت میں 200 کے زائد افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاع ہے۔

انہوں نے کہا کہ تین خودکش بمباروں نے دھرماشالہ میں داخل ہو کر ایسے وقت فائرنگ شروع کی جب وہاں عبادت گزاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان سیکیورٹی فورسز حملہ آوروں سے مقابلہ کر کے عمارت کو کلیئر کرانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

خیال رہے کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب گزشتہ روز ہی امریکا نے افغانستان کی امداد میں ایک ارب ڈالر کٹوتی کا اعلان کیا تھا۔

افغانستان میں سکھ برادری کی تعداد بہت کم ہے۔ ایک اندازے کے مطابق لگ بھگ 300 سکھ خاندان افغانستان میں آباد ہیں۔ اس سے قبل 2018 میں بھی جلال آباد کے علاقے میں سکھ برادری پر ایک حملہ ہوا تھا جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ مذکورہ حملے میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔