.

سعودی عرب میں کرونا وائرس سے تین اموات ،متاثرین کی تعداد 1012 ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارتِ صحت نے جمعرات کو کرونا وائرس کے 112 نئے کیسوں اور ایک ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔سعودی عرب میں اس ہفتے کے دوران میں اس سے پہلے کرونا وائرس کا شکار دو مریضوں کی موت واقع ہوئی ہے۔

سعودی عرب کی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1012 ہوگئی ہے۔آج بتائے گئے نئے کیسوں میں 34 کا تعلق الریاض ، 26 کا مکہ مکرمہ ، 13 کا جدہ اور 18 کا طائف سے ہے۔وزارت کے مطابق صوبہ الدمام ، القطیف ، مدینہ منورہ ، الخوبر اور بعض دوسرے شہروں میں بھی کرونا کے نئے کیس منظرعام پر آئے ہیں۔

ان میں سے بارہ متاثرہ افراد حال ہی میں بیرون ملک سے لوٹے ہیں،ان کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انھیں الگ تھلگ کردیا گیا ہے۔ایک سو افراد پہلے سے کرونا وائرس کا شکار افراد سے رابطے اور میل جول کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں اور انھیں اب طبّی نگرانی میں رکھا جارہا ہے۔

وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اب تک کرونا وائرس سے متاثرہ 33 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔سعودی عرب نے اس ہفتے کے دوران میں کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے کئی ایک سخت اقدامات کیے ہیں۔

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے بدھ کو مملکت میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نئے اقدامات کی منظوری دی تھی۔ان کے تحت سعودی عرب کے تیرہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے مکینوں پر سفری پابندی عاید کردی گئی ہے۔

مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور دارالحکومت الریاض میں مقیم افراد پر ان شہروں سے باہر جانے یا ان میں داخل ہونے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ان شہروں میں سوموار کو اعلان کردہ کرفیو کا دورانیہ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔اب اس کرفیو کا آغاز شام سات بجے کے بجائے سہ پہر تین بجے ہوا کرے گا اور یہ صبح چھے بجے تک جاری رہے گا۔

سعودی حکومت کے احکامات کے تحت کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے تمام مال اور پارکوں کو اسی ماہ کے اوائل میں بند کردیا گیا تھا۔ریستورانوں، کیفے اور چائے خانوں میں کھانے مہیا کرنے پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔ البتہ وہ گھروں یا دفاتر میں کھانے مہیا کرسکتے ہیں۔