.

سعودی عرب: جدہ کے لاک ڈاؤن کا حکم ،کرونا کرفیو کے دورانیے میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے جدہ میں مکینوں اور شہریوں کے داخلے یا وہاں سے خروج پر پابندی عاید کردی ہے۔

سعودی وزارت داخلہ نے اتوار کو ٹویٹر پر اطلاع دی ہے کہ جدہ کی گورنری میں اب کرفیو کا آغاز شام سات بجے کے بجائے سہ پہر تین بجے ہوگا اور یہ صبح چھے بجے تک نافذ العمل رہے گا۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سکیورٹی ،فوج اور میڈیا سمیت اہم سرکاری اور نجی شعبوں میں کام کرنے والے اہلکار اور شعبہ صحت میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر حضرات اور طبی عملہ کرفیو کی پابندیوں سے مستثنا ہوگا۔

سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے عشرے کے دوران میں کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے کئی ایک سخت اقدامات کیے ہیں۔ان کے تحت مملکت کے تیرہ صوبوں میں شہریوں اور مکینوں پر سفری پابندی عاید کردی گئی ہے۔جدہ سے پہلے 23 مارچ کو مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور دارالحکومت الریاض میں سہ پہر تین بجے سے صبح چھے بجے تک کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔اس کے تحت ان شہروں سے خروج یا ان میں دخول پر پابندی عاید ہے۔

سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 25 مارچ کو ان تین شہروں مکہ مکرمہ ،مدینہ منورہ اور الریاض میں لاک ڈاؤن کا حکم دیا تھا۔سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق اس کرفیو کی جو کوئی بھی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا،اس پر 10 ہزار ریال (2663 ڈالر) جرمانہ عاید کیا جائے گا۔دوبارہ خلاف ورزی کے مرتکب کو جیل کی ہوا کھانا پڑے گی اور ساتھ دُگنا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

سعودی حکومت نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کئی ایک احتیاطی اور انتظامی اقدامات کیے ہیں۔حکومت نے بیشتر سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ملازمین سے کہا ہےکہ وہ آیندہ سولہ روز تک اپنے گھروں سے ہی کام کریں۔

سعودی حکام نے شہریوں پر زوردیا ہے کہ وہ کرفیو کے مذکورہ اوقات میں اپنے گھروں ہی میں مقیم رہیں، سماجی روابط سے گریز کریں اور کسی ناگزیر ضرورت ہی کی صورت میں گھر سے باہر نکلیں۔

وزارت صحت نے الگ سے شہریوں اور مکینوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور انھیں معمولی نہ سمجھیں۔ وہ باقاعدگی سے اپنے ہاتھوں کو دھوئیں ، اپنے مُنھ ، چہرے اور ناک کو چُھونے سے گریز کریں۔اگر کسی فرد میں کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہوں تو اس کو فوری طور پر خود کو الگ تھلگ کرلینا چاہیے۔چہرے پر ماسک پہننا چاہیے تا کہ اس کے کھانسنے یا چھینکنے سے یہ وبائی وائرس پھیلے اور نہ دوسرے لوگ متاثر ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں