.

کرونا وائرس نے بین الاقوامی ہوائی اڈے سنسان اور طیارے رن وے پر کھڑے کردیے،10 تصاویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر کے ممالک نے کرونا وائرس کی وَبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اپنی زمینی اور فضائی سرحدیں بند کردی ہیں اور فضائی کمپنیوں نے اپنے طیارے گراؤنڈ کردیے ہیں کیونکہ ان پر سفر کرنے والا کوئی مسافر ہی نہیں رہا ہے اور لوگ اپنے گھروں میں دُبک کر بیٹھ گئے ہیں یا قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔

کرونا وائرس سے دنیا بھر میں اب تک نو لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوچکے ہیں اور بیالیس ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ابھی تک یہ کسی کو معلوم نہیں کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس سے لاک ڈاؤن کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا اور لوگوں کو کب اندرون یا بیرون ملک فضائی سفر کی اجازت ملے گی۔

یہاں بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر کھڑے کیے گئے طیاروں کی تصاویر ملاحظہ کیجیے۔ دنیا کی بڑی فضائی کمپنیاں بین الاقوامی پروازوں کی بندش کے بعد اپنے اپنے طیاروں کو ہوائی اڈوں کے رن وے پر کھڑے کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں۔

فرانس کے چارلس ڈی گال ائیر پورٹ پر کھڑے طیارے۔

کرونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے نتیجے میں برٹش ائیرویز کے طیارے بورن ماؤتھ کے ہوائی اڈے پر کھڑے ہیں۔

کرونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد ڈیلٹا ائیرلائنز کے طیارے الاباما، امریکا میں برمنگھم ،شٹلز ورتھ بین الاقوامی ہوائی پر کھڑے ہیں۔

جرمن شہر فرینکفرٹ کے ہوائی اڈے پر کھڑے طیارے۔

امریکا کے شہر اوکلاہوما کے تلسہ بین الاقوامی ائیرپورٹ پر امریکی ائیرلائنز کے طیارے کھڑے ہیں۔

کوریائی فضائی کمپنی کے طیارے جنوبی کوریا کے شہر انچیون کے انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر کھڑے ہیں۔

جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں لفتھانسا ائیرپورٹ کے مسافرطیارے ایک بند رن وے پر کھڑے ہیں۔

برطانیہ کے شہر برمنگھم کے ائیرپورٹ پر فضائی کمپنی جیٹ 2 کے طیارے۔

چین کی فضائی کمپنی ائیر چائنا کے طیارے دارالحکومت بیجنگ کے ہوائی اڈے پر کھڑے ہیں۔

امریکا کی ریاست کیلی فورنیا میں موجاو ائیر اور سپیس پورٹ پر مسافر اور مال بردار طیارے کھڑے ہیں۔