.

لیبیا میں ترکی وفاق حکومت کو نقص زدہ ڈرون طیارے فروخت کر رہا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے لیبیا میں جنرل خلیفہ حفتر کی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور اسے ملک کے مغربی حصے پر کنٹرول حاصل کرنے سے روکنے کے لیے اپنے ڈرون طیارے بھیجے۔ اس کا مقصد وفاق حکومت کے زیر انتظام مسلح جماعتوں کو وزن دار بنانا تھا۔ تاہم لیبیا میں ترکی کو سخت اسباق کا مزہ چکھنا پڑا ہے۔ اس کو ڈرون طیاروں کے پے در پے گرنے اور تباہ ہونے کا سامنا ہے۔ دارالحکومت طرابلس کو آزاد کرانے کے لیے تقریبا ایک برس قبل شروع کیے جانے والے فوجی آپریشن کے دوران لیبیا کی فوج اب تک ترکی کے تقریبا 30 ڈرون طیارے تباہ کر چکی ہے۔

اگرچہ یہ کہا جاتا ہے کہ ترکی ڈرون طیارے تیار کرنے والے اہم ممالک میں سے ہے تاہم لیبیا میں اس کے ڈرون طیاروں کا مار گرایا جانا معمول کا حصہ بن چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ "کیا ترکی کی حکومت لیبیا میں وفاق حکومت کو نقص زدہ طیارے فروخت کر رہی ہے ؟"۔

ایک برس سے ترکی کے ڈرون طیارے لیبیا کی فضاؤں میں محو پرواز نظر آتے ہیں۔ ان طیاروں کو وفاق حکومت کے اپنے ٹھکانے برقرار رکھنے کے سلسلے میں لیبیا کی فوج کے خلاف ایک اہم ہتھیار کی حیثیت حاصل ہے۔ وفاق حکومت اپنے بجٹ کا کثیر حصہ ترکی سے ڈرون طیاروں کی خریداری پر خرچ کر رہی ہے۔ البتہ ان طیاروں کی بڑی تعداد میں تباہی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ طیارے اس طرح "مثالی" نہیں جس طرح ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن دعوی کرتے ہیں۔

گذشتہ برس لیبیا کی فوج نے ترکی کے 15 ڈرون طیارے مار گرائے تھے۔ رواں سال بھی لیبیا کی فوج اب تک 15 طیارے تباہ کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ بعض مرتبہ تو ایک ہی دن میں 6 طیاروں کو فضا میں نشانہ بنایا گیا۔

بہرکیف ترکی کے تیار کردہ ان ڈرون طیاروں کے پے در پے تباہ ہونے کے باوجود لیبیا میں وفاق حکومت کو ان طیاروں کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں