چین نے کرونا کے حوالے سے دنیا کو گمراہ کیا : امریکی انٹیلی جنس کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی انٹیلی جنس نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ چین نے کرونا سے متعلق بہت سے حقائق کو سامنے نہ لا کر دنیا کو گمراہ کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں وائرس کا پھیلاؤ بڑھ گیا اور یہ ایک عالمی وبا کی صورت اختیار کر گیا۔

امریکی چینل فوکس نیوز پر نشر ہونے والی رپورٹ کے مطابق چین نے دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے کرونا کے مریضوں اور اس سے واقع ہونے والی اموات کی تعداد کو چھپایا۔ یہ بات امریکی انٹیلی جنس کے تین ذمے داران نے بتائی۔

وائٹ ہاؤس کو بھیجی گئی ایک خفیہ رپورٹ میں مذکورہ ذمے داران نے بتایا کہ چین کی جانب سے COVID-19 وائرس کے حوالے سے ریکارڈ کیے جانے والے اعداد و شمار میں دھوکا دیا گیا۔ اس ریکارڈ کو دانستہ طور پر غیر مکمل رکھا گیا۔

رپورٹ میں امریکی انٹیلی جنس کے تین افسران کے حوالے سے بتایا گیا کہ انہوں نے گذشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس کو خبردار کر دیا تھا کہ کرونا کے حوالے سے بیجنگ حکومت کے اعداد و شمار فرضی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چین کی جانب سے تعداد کے اظہار میں کمی کے بقیہ دنیا پر مرتب ہونے والے نتائج جان لیوا ہو سکتے ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ کی عہدے دار ڈیبورا بوریکس کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے گمراہ کن معلومات اور نتائج کے اثرات اب اطالیہ اور ہسپانیہ پر منعکس ہو رہے ہیں۔

کرونا وائرس کے آغاز کے وقت سے ہی چین نے متعلقہ معلومات پر پردہ ڈالا۔ اس دوران اُن ناقدین اور طبیبوں کو گرفتار کر لیا گیا جنہوں نے خطرے کی گھنٹی بجانے کی کوشش کی۔

حالیہ ہفتوں میں چین نے عالمی سطح پر اپنی تصویر بہتر بنانے کے لیے باقاعدہ مہم کا آغاز کیا۔ چین نے اپنی معیشت کا پھیہ دوبارہ سے چلانے کی کوشش کی۔ اس نے کرونا سے شدید طور پر متاثر ہونے والے ممالک کو متعلقہ لوازمات فروخت کیے۔

فوکس نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے جاسوسی کی روک تھام سے متعلق امور کے ماہر گریگ بارباچیا نے کہا کہ "نشانہ بننے والے کا کردار ادا کرنے سے بہتر ایک ہی چیز ہے اور وہ یہ کہ خود کو ہیرو کے طور پر ظاہر کیا جائے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین موجودہ اقتصادی منظرنامے سے فائدہ اٹھا کر ایران اور اطالیہ کی صورت حال کی روشنی میں اسے اپنے مفاد کے واسطے استعمال میں لا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین نے کرونا وائرس کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے پروپیگنڈے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے عالمی ادارہ صحت کو کروڑوں ڈالر پیش کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اس کے عوض چین نے اپنے لیے کامیابی کے تمغے حاصل کر لیے۔

بدھ کے روز اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کوویڈ - 19 وائرس کی روک تھام کے لیے کوششوں میں چین کی شرکت کو سراہا گیا۔ رپورٹ میں اس بات پر روشنی نہیں ڈالی گئی کہ چینیوں نے اس وائرس کے پہلے کیس کے بارے میں اس وقت تک نہیں بتایا جب تک وہ ایسا کرنے پر مجبور نہیں ہو گئے۔

بعد ازاں سامنے آنے والی دستاویزات سے یہ انکشاف ہوا کہ کرونا کے بارے میں آگاہ کرنے سے دو ماہ قبل ہی چین کو اس مہلک وائرس کے خطرات کا علم ہو چکا تھا۔ اگر چین صورت حال کو واضح طور پر سامنے لے آتا تو COVID-19 وائرس کو کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں