.

دنیا تنازعات سے نکل کر اپنی توانائیاں کرونا کے خلاف استعمال کرے: گوٹیرس

کرونا وائرس عالمی تنازعات کے حل کا بہترین موقع، دنیا فائدہ اٹھائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا ہے کہ ہم دنیا کو تنازعات سے نکال کر ان کی تمام توانائیاں اور کوششیں کرونا وائرس کے نتیجے میں پھیلنے والی وباء کے خلاف جنگ کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ باہمی تنازعات سے باہر نکلیں اور اپنے وسائل کو کرونا کے خلاف استعمال کریں۔

'العربیہ' چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کا خطرہ ٹلا نہیں اور یہ وباء ابھی تک عروج پر ہے۔ میں پوری دنیا کے ملکوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ لڑائیاں بند کر کے اپنی تمام توجہ اور وسائل اس عالمی وباء کے خلاف استعمال کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس وبا سے نمٹنے کے لیے دُنیا میں تنازعات کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کرونا کے بارے میں خاموش ہے اور اس کا کام اس وبا کو دور کرنے کے لئے کام کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کرونا دنیا میں تنازعات کےخاتمے کا بہترین موقع ہے مگر بدقسمتی سے ہم اس موقعے سے فایدہ اٹھانے سے بہت دور ہیں۔ اس وقت پوری دنیا کو علاقائی تنازعات ختم کرکے 'کوویڈ ۔19' کے اس طوفان کا ملک کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ یہ کسی ایک ملک، قوم یا معاشرے کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مشترکہ چیلنج ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کیمرون، جمہوریہ وسطی افریقا، کولمبیا، لیبیا ، میانمار، فلپائن، جنوبی سوڈان، سوڈان، شام، یوکرین اور یمن میں ہونے والے تنازعات میں شامل فریقین نے ہماری تجاویز کو قبول کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ صرف اعلانات نہیں ہمیں عملا جنگ بندی چاہیے۔ ہم متنازع علاقوں میں جاری لڑائیاں ختم کرنے پر عمل درآمد دیکھنا چاہتے ہیں۔ بہت سے تنازعات کافی پرانے ہیں اور وہ آسانی کے ساتھ حل نہیں ہوسکتے۔ اس کے علاوہ متحارب فریقین میں گہری عدم اعتمادی اور شکوک و شبہات ہیں۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کرونا وائرس 188 ممالک میں پھیل چکا ہے۔ اب تک 53 ہزار 693 افراد کرونا کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جب کہ متاثرین کی تعداد 10 لاکھ 35 ہزار 380 تک جا پہنچی ہے۔ اب تک اس بیماری کا شکار ہونے والے 2 لاکھ اور 1500 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

اٹلی میں فروری کے آخرمیں وبائی بیماری کے ذریعہ پہلی موت ریکارڈ کی تھی اور اموات کے اعتبار سے اٹلی سب سے آگے ہے جہاں اب تک 14 ہزار 681 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔اس کے بعد اسپین میں 10 ہزار 935 اور فرانس میں پانچ ہزار 387 افراد ہلاک ہوئےہیں۔ چین جہاں یہ بیماری سب سے پہلے پھیلی ہلاکتوں اور متاثرین میں کافی پیچھے چلا گیا ہے۔ چین میں 81 ہزار افراد کرونا کا شکار ہوئے جب کہ مرنے والوں کی تعداد 3322 ہے۔

کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد کے اعتبار سے امریکا سب سے آگے ہے جہاں اب تک کرونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد دو لاکھ 39 ہزار 279 ہوچکی ہے جب کہ 5 ہزار 443 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔