.

کرونا بحران نے امریکی میڈیا میں بھی اکھاڑ پچھاڑ شروع کرا دی

فاکس نیوز ایک پیش کارہ برطرف، متعدد کی نگرانی سخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کرونا وائرس نے پوری دنیا میں صحت کا سنگین بحران پیدا کرنے کے ساتھ ابلاغیات کے میدان میں بھی ہل چُل ڈال دی ہے۔ کرونا کی وجہ سے امریکی میڈیا میں بھی اکھاڑ پچھاڑ دیکھنے میں آئی ہے۔ امریکی میڈیا کو کرونا وائرس کی وجہ سے اسکروٹنی کی ایک وسیع مہم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ صحافیوں کی اقابل قبول غلطیاں اور فیصلے معاشرے میں خوفناک مشکلات کھڑی کرنے کرسکتے ہیں جن کی معاشرے اور لوگوں کو بھاری معاشی اور معاشرتی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

ان نازک حالات نے امریکی میڈیا کی ساکھ کومتاثر کیا ہے۔ امریکی میڈیا کے بعض اداروں پر ہمیشہ ہی یہ الزام رہا ہے کہ انہوں نے اپنے مخصوص ایجنڈے کی خدمت کی ہے اور ایک عام امریکی شہری کی طرف سے ان اداروں پر اعتماد کمزور ہوا ہے۔

اپنی ساکھ کی بحالی کی کوشش میں فاکس نیوز میڈیا چینل نے اپنے ایک ٹی وی شو کی میزبان' ٹریچ ریگن' کو پروگرام سے روک دیا۔ ریگن نے اپنے پروگرام میں کرونا کی وبا کو معمولی قرار دینے کی کوشش کی تھی۔۔ اس نے ڈیموکریٹک نواز میڈیا پر مبالغہ آرائی کا الزام عاید کیا اور کہا کہ یہ میڈیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو'وائرس' کی وجہ سے تنہا کرنا چاہتا ہے۔

"فاکس بزنس" کی اینکر ٹریچ ریگن نے اپنے شو سےدو ہفتے تک غیر حاضر رہنے کے بعد نیوز نیٹ ورک سے الگ ہوگئی ہے۔ اپنے آخری واقعہ میں ، انہوں نے فاکس نیوز پر آخری پروگرام میں صدر ٹرمپ کے دشمنوں کے ذریعہ چلائے جانے والی مہم کو "دھوکہ دہی " قرار دیتے ہوئے امریکا میں کرونا وائرس کے خطرناک حد تک پھیلائو کے امکانات کو مسترد کردیا تھا۔

جمعہ کے روز فاکس نیوز نیٹ ورک نے کہا کہ اس نے براڈکاسٹر ریگن کوفارغ کردیا ہے۔ اس کا پرائم ٹائم پروگرام رواں ماہ چینل کے شیڈول نکال دیا گیا ہے۔

فاکس نیوز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 47 سالہ ریچ ریگن نے لکھا ہے کہ وہ اپنے کیریئر کے "اگلے باب" کی منتظر ہیں۔ میں فاکس میں اپنے وقت سے لطف اندوز ہوئی۔ اب میں اس مشکل وقت میں اپنے کنبے پر توجہ مرکوز کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں۔

قدامت پسند میڈیا اسٹار جن میں فاکس نیوز کے رش لمبو اور شان ہنٹی شامل ہیں نے اپنے پروگرامات میں امریکا میں کرونا وائرس کے خطرے کو معمولی قرار دیا۔ انہوں نے لاکھوں امریکیوں کو گمراہ کیا کہ کرونا وائرس کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنےکے پیچھے ڈیموکریٹک عناصر کا ہاتھ ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ساکھ کو نقصان پہنچانا چاہتےہیں۔

اخبار واشنگٹن پوسٹ کی طرف سے سی این این ایک اینکر کرس کومو پر تقنید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بار بار نیویارک کے گورنر جو ان کے بھائی بھی ہیں کو اپنے شو میں بلاتے ہیں۔ یہ بھی ایک طرح کی بدعنوانی ہے جسے تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔