.

ماسک کرونا وائرس سے بچائو کا جادوئی حل نہیں: عالمی ادارہ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت نےکل سوموار کو متنبہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کے وباء پر قابو پانے کے لیے صرف ماسک کا استعمال ہی کافی نہیں ہے۔ اس بیماری نے اب تک 70 ہزار افراد کی جان لے لی ہے۔ اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ بیماری سے بچنےکے لیے ماسک کافی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹائڈروس اڈھانم گیبری سوس نے ایک ویڈیو کانفرنس میں کہا ،ماسک کو صرف حفاظتی اقدامات کے پیکیج شامل ایک جزو کے طوپراستعمال کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کی ماسک کا استعمال اسی وقت مناسب ہے جب ہاتھ دھونے یا سماجی فاصلہ ممکن نہ ہو۔

گیبری سوس کا کہنا تھا کہ کرونا کا شکار ہونے والے ممالک کو عوام میں ماسک استعمال کرنے کے معاملے پر توجہ دینی چاہیئے۔ ایسے مقامات جہاں ہاتھونے یا سماجی دوری کا انتظام نہ ہوسکے وہاں پر ماسک کا استعمال ضروری ہے۔

لیکن انہوں نے زور دے کر کہا کہ طبی ماسک کا وسیع پیمانے پر استعمال صحت کارکنوں کے لیے حفاظتی سامان کی کمی کو بڑھا سکتا ہے۔

ایک اور سیاق و سباق میں عالمی اداری صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے محققین کی طرف سے جاری کردہ 'نسل پرستانہ بیانات" کی مذمت کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حال ہی میں ایک ویکسن کو 'افریقی' ویکسن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہی افریقا میں ایک نئی ویکسین تیار کی جا رہی ہے جسے کرونا کے خلاف استعمال کیا جا سکے گا۔ انہوں نے ویکسین کو کسی خاص خطے کے ساتھ منسوب کرنے کی شدید مذمت کی اور اسے نسل پرستانہ سوچ کا مظہر قرار دیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ افریقا میں ماہرین کرونا کے خلاف ویکسین تیار کررہے ہیں جو 12 سے 18 ماہ میں تیار ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی میں سائنس دانوں کے اس قسم کا بیان سننا شرمناک اور خوفناک ہے۔ ہم اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوگا۔