.

مسلم دنیا میں کرونا کے باعث رمضان اور عید غیر معمولی حالات میں گذرے گی؟

انڈونیشیا نے مسلمانوں کو نماز تراویح اپنے گھروں میں ادا کرنے کی ہدایات جاری کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’کرونا پر قابو پانے کی کوششوں میں کامیابی کے لیے ہفتے نہیں بلکہ مہینے لگ سکتے ہیں۔‘‘ سعودی عرب میں وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العالی کے اس بیان کے بعد مسلم دنیا میں رمضان المبارک اور عید الفطر لاک ڈاون اور کرفیو کے سائے میں منانے سے متعلق خدشات میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔

ایک میڈیا انٹرویو میں رمضان المبارک اور عید الفطر کرفیو میں گزرنے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان وزارت صحت ڈاکٹر محمد العبد العالی نے کہا ہے کہ ’دنیا کرونا پر قابو پانے کے قریب نہیں اور سعودی عرب اس دنیا کا حصہ ہے، ہم ہفتوں کی بات نہیں کر رہے بلکہ مہینوں کی بات کر رہے ہیں۔ وبا پر قابو پانے کے لیے کئی مہینے لگ سکتے ہیں‘۔

انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’لوگ اگر ہدایات اور احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کریں گے تو ہزاروں افراد وائرس کی زد میں رہیں گے۔ یہ محض خیالی باتیں نہیں بلکہ حقیقت ہے‘۔ ڈاکٹر محمد العالی نے بتایا ہے کہ ’کرونا کا ایک مریض ہزاروں افراد کو وائرس منتقل کرسکتا ہے، اسی لیے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ضروری ہے‘۔

درایں اثنا انڈونیشیا نے ملک میں مسلمانوں کو تاکید کی ہے کہ وہ رمضان کے مہینے میں نماز تراویح گھر میں پڑھیں اور عید کی نماز کے بڑے اجتماعات سے گریز کریں۔ یہ اقدام یقیناً مسلمان اکثریتی ملک میں مسلمانوں کی زندگیوں پر ڈرامائی اثر ڈالے گا۔

عام طور پر رمضان کے مہینے میں انڈونیشیا میں خوب گہما گہمی ہوتی ہے۔ یہاں آبادی کا تقریباً 85 فیصد یعنی 26 کروڑ مسلمان آباد ہیں۔ اس مہینے میں طلوع آفتاب کے وقت اکثر افراد سڑکوں کا رخ کرتے ہیں تاکہ سحری کا کھانا غریبوں کو کھلا سکیں جبکہ مغرب کے وقت افطار کے لیے لوگ ریستورانوں اور مساجد کا رخ کرتے ہیں۔

گلیوں میں کھانے پینے کا سامان بیچنے والے بھی بڑی تعداد میں سڑکوں کا رخ کرتے ہیں اور کھجوریں یا ناریل کے پانی اور کیلے بیچتے ہیں۔ رات کے وقت لوگ مساجد میں تراویح اور قرآن پڑھتے اور زکات دیتے ہیں۔

اس مرتبہ ماہ رمضان اپریل کے آخر میں شروع ہو گا جبکہ عید مئی کے آخر میں ہو گی۔ عید کے روز فٹبال کے میدانوں، پارکوں، عید گاہوں میں نماز ادا کی جاتی ہے جہاں بڑی تعداد میں میں لوگ نئے کپڑے پہن کر آتے ہیں۔

عید کے لیے کی جانی والی خریداری بھی معیشت کے لیے اہم ہوتی ہے۔ گذشتہ برس رمضان کے مہینے میں ہونے والی خرید وفروخت کے باعث انڈونیشیا کے مجموعی داخلی پیداوار میں پانچ اعشاریہ ایک سات کا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

اس برس رمضان یکسر مختلف ہو گا۔ کرونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث وزارتِ مذہبی امور نے مسلمانوں کو نمازیں، قرآن کی پڑھائی اور روزے گھروں پر کھولنے کی تاکید کی ہے۔