.

کرونا وائرس کا شکار برطانوی وزیراعظم جانسن کی طبیعت بگڑ گئی، آئی سی یو منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کرونا وائرس کا شکار برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی طبیعت اچانک بگڑ گئی ہے اور انھیں اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) میں منتقل کردیا گیا ہے۔

ان کے دفتر 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’آج سہ پہر کے بعد وزیراعظم کی حالت بگڑ گئی تھی۔ان کی میڈیکل ٹیم کے مشورے کے بعد انھیں اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں منتقل کردیا گیا ہے۔‘‘

’’وزیراعظم نے وزیر خارجہ اوراوّل سیکریٹری آف اسٹیٹ ڈومینیک راب سے کہا ہے کہ وہ وقتِ ضرورت ان کے نائب کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہیں۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے۔

واضح رہے کہ برطانوی آئین میں اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں ہے کہ اگر بورس جانسن میں کرونا وائرس کی علامات برقرار رہتی ہیں اور وہ خرابیِ صحت کی بنا پر کاروبارِ حکومت چلانے سے قاصر رہتے ہیں تو پھر ان کے متبادل نظام حکومت چلانے کا بندوبست کیا ہوگا۔

بورس جانسن کو اتوار کو کرونا وائرس کی علامات برقرار رہنے پر اسپتال داخل کیا گیا تھا۔ان کے دفتر کا کہنا ہے کہ انھیں پیشگی احتیاطی تدبیر کے تحت اسپتال منتقل کیا گیا تھا کیونکہ ان کا جسمانی درجہ حرارت بدستور زیادہ تھا۔

برطانوی وزیراعظم کا دس روز قبل کرونا وائرس کا ٹیسٹ ہوا تھا اور اس کا نتیجہ مثبت آیا تھا۔اس کے بعد سے وہ اپنی سرکاری اقامت گاہ پر ایک فلیٹ میں الگ تھلگ رہ رہے تھے اور وہیں سے امورِ حکومت چلا رہے تھے۔ انھوں نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ان میں اب بھی کووِڈ-19 کی معمولی علامات پائی جارہی ہیں اور جسمانی درجہ حرارت زیادہ ہے۔

اتوار کو ان کی حاملہ منگیتر کیری سائمنڈز نے بھی کہا تھا کہ ان میں کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔انھوں نے یہ علامات ظاہر ہونے کے بعد گذشتہ ایک ہفتہ بستر پر ہی گزارہ ہے اور اب وہ بہتری محسوس کررہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’’مجھے کووِڈ-19 کے ٹیسٹ کرانے کی ضرورت پیش نہیں آئی ہے۔‘‘