.

کرونا کی وبا کے حوالے سے سلامتی کونسل کا پہلا اجلاس جمعرات کو ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جمعرات کے روز کرونا وائرس کے حوالے سے پہلا اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران اس وبائی مرض کے سبب کونسل کے پانچوں مستقل ارکان کے درمیان شدید نوعیت کا انقسام دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ بات سفارتی ذرائع نے پیر کے روز بتائی۔

کونسل کے 10 غیر مستقل ارکان میں سے 9 نے گذشتہ ہفتے مطالبہ کیا تھا کہ کرونا کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد کیا جائے۔ اس اجلاس میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اپنی بریفنگ دیں۔ یہ مطالبہ کونسل کے مستقل ارکان بالخصوص امریکا اور چین کے درمیان اس وائرس کے حوالے سے جاری تنازعات کے سلسلے میں غیر مستقل ارکان کے مایوس ہوجانے کے بعد سامنے آیا۔

ایک سفارت کار نے پیر کے روز اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ سلامتی کونسل جمعرات کے روز وڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے بند کمرے کا اجلاس منعقد کرے گی۔ یہ اجلاس گرینچ کے وقت کے مطابق شام سات بجے شروع ہو گا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق اجلاس میں زیر بحث آنے والے موضوعات کے حوالے سے ایجنڈے پر ابھی تک ابہام کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔

سلامتی کونسل کے دس غیر مستقل ارکان (ویٹو کا حق نہ رکھنے والے) میں سے جن نو ممالک نے اجلاس طلب کیا ان کے نام یہ ہیں : جرمنی، بیلجیم، اسٹونیا، تیونس، انڈونیشیا، ویتنام، نائیجر، ڈومینیکن ریپبلک اور ریاست سینٹ وینسینٹ و گریناڈائنز.

سلامتی کونسل کا دسواں غیر مستقل رکن جنوبی افریقا اجلاس طلب کرنے والے ممالک میں شامل نہیں ہے۔ اس کا موقف ہے کہ کرونا وائرس کے نتیجے میں جنم لینے والی وبا کا تعلق صحت اور معیشت کے بحران سے ہے ... جب کہ سلامتی کونسل کی ذمے داری بین الاقوامی امن اور سلامتی کا تحفظ ہے۔ لہذا اس وبا کو زیر بحث لانا فی الوقت سلامتی کونسل کا کام نہیں ہے۔