.

کرونا کے سبب دنیا بھر کے ساحل خالی، انسانوں کی جگہ پرندوں کا ڈیرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کرونا وائرس نے زندگی کے تمام پیمانوں اور اصول و ضوابط کو الٹ پلٹ کر کے رکھ دیا ہے۔ اس وبا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال نے مختلف نوعیت کے آبی اور ہجرت کرنے والے پرندوں کو طاقت بخش دی ہے۔ اس طاقت کے سبب وہ پورے اطمینان سے دنیا کے ساحلوں پر یلغار کے ذریعے اپنی روٹی تلاش کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ پیش رفت دنیا کے مختلف شہروں میں کرفیو نافذ کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔

لاطینی امریکا کے ملک پیرو میں "اگوا ڈولسی" کا ساحل بہت معروف ہے۔ موسم گرما میں عروج کے دنوں میں یہاں روزانہ 40 ہزار کے قریب افراد کی آمد معمول کی بات ہے۔ یہ سیزن دسمبر سے مارچ تک جاری رہتا ہے۔ تاہم امریکی اخبار "لاس اینجلس ٹائمز" کے مطابق کرونا کے آنے کے بعد یہاں کا منظر یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ پیرو کے صدر مارٹن وزکارا نے کرونا کے وبائی مرض کے پھیلنے پر ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ لوگوں کو گھروں میں رہنے کے احکامات دیے گئے۔ اس کے سبب ساحل لوگوں سے خالی ہو گیا جو کہ نادر نوعیت کا منظر ہے۔

ادھر ترکی کی ریاست قیرشہیر میں واقع "سيفا" جھیل ... "پرندوں کی جنت" کے نام سے مشہور ہے۔ اس وقت ہجرت کر کے آنے والے پرندوں نے یہاں قبضہ کر رکھا ہے۔ اس سے قبل یہاں عام دنوں میں پائے جانے والے دیگر نوعیت کے سیکڑوں پرندے کوچ کر گئے تھے۔

رواں سال یہاں آنے والے پرندے پوری آزادی کے ساتھ جھیل پر گھوم رہے ہیں۔ کرونا وائرس کے حوالے سے احتیاطی اقدامات کے سبب یہاں انسانوں کی موجودگی نظر نہیں آ رہی۔

دوسری جانب مصر میں آبی پرندوں کی ایک بڑی تعداد بحر احمر کے ساحلوں پر پہنچ چکی ہے۔ کرونا وائرس کے سبب عائد کرفیو کے نتیجے میں ساحلوں پر سمندری سرگرمیاں موقوف ہو گئیں۔ ساتھ ہی غیر ملکی سیاح بھی کوچ کر گئے۔

کرونا وائرس کی حالیہ وبا دنیا بھر میں 80 ہزار انسانوں کی موت کا سبب بن چکی ہے۔