.

یمن میں جنگ بندی،سعودی عرب کے کشیدگی کے خاتمے کے لیے عزم کا مظہر:عالمی ایلچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفیتھس نے سعودی عرب اوراس کی قیادت کے یمن میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے عزم کو سراہا ہے۔

انھوں نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے یمن میں جنگ بندی کے اعلان کو سراہا ہے اور اس کو ایک مثبت اقدام قرار دیا ہے۔

عالمی ایلچی نے اس ٹویٹ میں لکھا ہے:’’میں مملکت سعودی عرب اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت کو اس مثبت اقدام پر سراہتا ہوں۔ اس سے سعودی عرب کے تنازع کے خاتمے کے لیےعزم اور اس کی اقوام متحدہ سے ہم آہنگ کوششوں کی عکاسی ہوتی ہے۔‘‘

عرب اتحاد نے جمعرات کی دوپہر سے دو ہفتے تک یمن میں جامع جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔عرب اتحاد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ اقدام کرونا وائرس کی مہلک وَبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

اتحاد نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ 25 مارچ کے ابتدائی اعلان کی روشنی میں کیا گیا ہے اور اس کے ذریعے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے جنگ بندی کے فیصلے کی توثیق کی گئی ہے۔تب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفیتھس نے جنگ زدہ ملک کے متحارب فریقوں پر زوردیا تھا کہ وہ اپنے ہتھیار پھینک دیں۔

مارٹن گریفیتھس نے ایک اور ٹویٹ میں کہا ہے کہ انھوں اور یمن کے نائب صدر علی محسن الاحمر نے مشترکہ طور پرعرب اتحاد کے جنگ بندی کے یک طرفہ اعلان کو سراہا ہے اور انھوں نے متحارب فریقوں کے درمیان ملک بھر میں جنگ بندی پر پیش رفت، انسانی امداد کے لیے اقتصادی اقدامات اور سیاسی عمل کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

دریں اثناء سعودی عرب نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے یمن میں 2020ء میں انسانی امداد کے منصوبے کے لیے 50 کروڑ ڈالردے گا۔ وہ اس کے علاوہ کرونا وائرس کی وَبا سے نمٹنے کے لیے مزید ڈھائی کروڑ ڈالر امداد کے طور پر دے گا۔