.

یو اے ای : مساجد اور عبادت گاہوں کی بندش میں تاحکم ثانی توسیع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے جمعرات کو مساجد اور عبادت گاہوں کو تاحکم ثانی بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق یہ فیصلہ ملک میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حفظ ماتقدم کے طور پر احتیاطی تدابیر کے تحت کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے 16 مارچ کو کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے چار ہفتے تک مساجد سمیت تمام عبادت گاہوں میں نمازوں کی ادائی پر پابندی عاید کردی تھی۔ یہ مدت ختم ہونے والی ہے مگر اس سے پہلے ہی اس میں تاحکم ثانی توسیع کردی گئی ہے۔

امارات کے حکام نے کرونا کے مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے گذشتہ ڈیڑھ ایک ماہ کے دوران میں متعدد اقدامات کیے ہیں۔یو اے ای نے غیرملکیوں کو ویزوں کا اجرا بند کردیا تھا اور بہت سے ممالک کے لیے اپنی پروازوں کی آمد ورفت معطل کردی تھی۔

یواے ای کی وزارت صحت کے مطابق ملک میں کرونا وائرس کے پانچ لاکھ سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔امارات کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ ان ٹیسٹوں کا مقصد کرونا وائرس کا شکار افراد کا بروقت سراغ لگانا ہے تاکہ اس مہلک وَبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے متاثرہ افراد کو قرنطینہ میں الگ تھلگ رکھا جاسکے۔

یواے ای کی وزارتِ صحت نے قبل ازیں گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کے 300 نئے کیسوں کی تصدیق کی تھی۔ یو اے ای میں اب اس مہلک وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 2659 ہوگئی ہے۔

وزارتِ صحت نے یو اے ای میں اب تک اس مہلک وائرس سے 12 اموات کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ اس مہلک وائرس کا شکار 53 افراد علاج کے بعد صحت یاب ہوچکے ہیں اورتندرست ہونے والے افراد کی تعداد 239 ہوگئی ہے۔