.

عراق میں موجود ہماری فوج کو ایران سے سخت خطرہ ہے: امریکی سفارت کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران یا اس کے پراکسیوں کے حملے کی انتباہ کے قریب ایک ہفتہ بعد امریکی اسسٹنٹ سکریٹری برائے برائے مشرق قریب ڈیوڈ شینکر نے جمعرات کو کہا کہ ایرانی حمایت یافتہ گروپوں سے عراق میں موجود امریکی فوج کو خطرات لاحق ہیں۔

ایک پریس کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شینکر نے ایرام کی طرف سے درپیش خطرات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں لیکن زور دے کر کہا کہ ایران کی طرف سے خطرات کی نوعیت اب بھی سنگین ہے۔

ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروہوں نے عراق میں امریکی افواج کے ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ بغداد میں امریکی سفارت خانے کے آس پاس کے علاقے پر باقاعدگی سے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سوموار کوتین راکٹ جنوبی عراق کے ایک ایسے علاقے کے قریب گرے امریکی آئل سروسز کمپنی ہیلیبرٹن سمیت غیر ملکی تیل کمپنیوں کے مراکز ہیں۔ تاہم ان حملوں میں کسی کے جانی و مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

گذشتہ ہفتے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران یا اس کے پراکسی گروہوں نے عراق میں امریکی اہداف پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ انہوں نے ایران کو متنبہ کیا کہ عراق میں امریکی فوج کو خطرے میں ڈالنے کی صورت میں تہران کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان رواں سال تین جنوری کے بعد اس وقت حالات کشیدہ ہوگئے تھے جب امریکا نے ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور عراقی الحشد ملیشیا کے سربراہ ابو مہدی المہندس سمیت کئی دوسرے کمانڈروں کوبغداد کے ہوائی اڈے پر ہلاک کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں