.

تیل کی پیداوار میں کمی کے لیے اوپیک پلس گروپ کا تاریخی معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیل پیدا کرنے اور برآمد کرنے والے ممالک کا اتحاد اوپیک پلس ایک تاریخی معاہدہ طے کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں تیل کی عالمی منڈی میں ایک بار پھر توازن پیدا ہو جائے گا۔ یہ پیش رفت جمعے کے روز میکسیکو کی جانب سے پیداوار میں مطلوبہ کمی پر آمادہ ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کی شام بتایا کہ میکسیکو اپنی تیل کی یومیہ پیداوار میں ایک لاکھ بیرل کی کمی کرنے پر تیار ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اس کمی کے سلسلے میں میکسیکو کی مدد کرے گا۔

اس سے قبل جمعرات کے روز اوپیک پلس گروپ کا ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اوپیک تنظیم کے رکن ممالک اور تیل پیدا کرنے والے غیر رکن ممالک کے متعلقہ وزرا نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران شریک ممالک نے تعاون کا اعلان کیا اور باور کرایا کہ تیل کی منڈیوں کو پھر سے مستحکم کرنے کے لیے وہ مقررہ فیصلوں کی پاسداری کریں گے۔

اجلاس میں شریک ممالک درج ذیل نکات پر متفق ہوئے :

1. مؤرخہ 10 دسمبر 2016 کو دستخط ہونے والے تعاون کے اعلامیے اور 2 جولائی 2019 کو دستخط ہونے والے میثاقِ تعاون پر عمل کی یقین دہانی.

2. یکم مئی 2020 سے اوپیک+ گروپ کی خام تیل کی مجموعی پیداوار میں یومیہ 1 کروڑ بیرل کی کمی کی جائے گی۔ پیداوار میں کمی پر عمل درامد 30 جون 2020 (دو ماہ) تک جاری رہے گا۔ اگلے چھ ماہ یعنی یکم جولائی 2020 سے 31 دسمبر 2020 تک مجموعی پیداوار میں یومیہ کمی 80 لاکھ بیرل ہو گی۔ بعد ازاں یکم جنوری 2021 سے 30 اپریل 2022 (16 ماہ) تک تیل کی مجموعی پیداوار میں کمی کا حجم یومیہ 60 لاکھ بیرل ہو گا۔ جمعے کے روز دستخط ہونے والا سمجھوتا 30 اپریل 2022 تک نافذ العمل ہو گا۔

3. تیل پیدا کرنے والے تمام بڑے ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ عالمی منڈی میں استحکام کو یقینی بنانے کی حالیہ کوششوں میں حصہ لیں۔

4. پیداوار میں کمی کے معاہدے کی نگرانی کے لیے مشترکہ وزارتی کمیٹی کے کردار پر زور دیا گیا۔ اس سلسلے میں اوپیک کی مشترکہ تکنیکی کمیٹی اور سکریٹریٹ کا تعاون حاصل رہے گا۔

5. اس بات کی یقین دہانی کہ خام تیل کی پیداوار میں کمی کا اطلاق ثانوی ذرائع کی جانب سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ہو گا۔

6. رواں سال 10 جون کو "ويبينار" ٹکنالوجی کے ذریعے اجلاس کا انعقاد ہو گا۔ اجلاس میں تیل کی منڈیوں میں توازن کو یقینی بنانے کے لیے ممکنہ طور پر مطلوب اضافی اقدامات کا تعین کیا جائے گا۔