.

امریکی صدارتی امیدوار جوبائیڈن پر جنسی ہراسانی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیر سیاست دان اور سنہ 2020ء کے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل صدارتی امیدوار جوبائیڈن پران کے دفتر کی ایک سابق ملازمہ نے جنسی ہراسانی کا الزام عاید کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جوبائیڈن کی مبینہ جنسی بدسلوکی کی شکایت واشنگٹن پولیس کے ایک تھانے میں درج کرائی گئی ہے۔ یہ شکایت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف جوبائیڈن پوری شد ومد کے ساتھ اپنی صدارتی مہم چلا رہےہیں۔ ان کے خلاف یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے۔

امریکی جریدے "نیوز ویک" کے مطابق شکایت کنندہ تارا ریڈ نے کہا کہ بائیڈن نے سینٹ کی عمارت کی راہداری میں انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔

مبینہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ تقریبا 30 تیس سال قبل بائیڈن کے دفتر میں سینیٹ کی ملازم کے طور پر کام کررہی تھی۔

تارا ریڈ نے گذشتہ ماہ جوبائیڈن کے خلاف اپنی پہلی شکایت درج کروائی تھی۔ ایک ٹویٹ میں انہوں نے ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے درخواست دائر کرنے میں اس کی مدد کی۔ خاص طور پر "نامور شخصیات" سوسن سرینڈن ، جان کسیک اور روز میک گوون کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اسے جوبائیڈن کی 'غیراخلاقی' حرکت کے خلاف آواز اٹھانے پر اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

یہ واقعہ 30 سال قبل اس وقت پیش آیا تھا جب تارا ریڈ جوبائیڈن کے دفتر میں ملازم تھیں۔

اس کا کہنا ہے کہ میں نے صرف حفاظتی وجووہات کی بناء پر پولیس کو اطلاع دی ہے۔ میں ان تمام لوگوں کی شکرگزار ہوں جو میرے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔

ریڈ نے کہا کہ اسے سنہ 2018 میں روسی صدر ولادی میر پوتین کی تعریف میں ایک آن لائن بلاگ پرمضمون لکھنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد اس نے وہ مضون بلاگ سے حذف کرا دیا تھا۔

انہوں نے الزام عاید کیا کہ جو بائیڈن کے حامیوں نے میری شہرت کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ مجھے روسی ایجنٹ کہا گیا۔ میں ایسی نہیں ہوں۔ میں ایک عام شہری کے طورپر سوچتی اور بات کرتی ہوں۔

نیوز ویک کے ساتھ اپنی گفتگو میں اس نے کہا کہ میں نے بایڈن کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یہ بائیڈن اور ان کے حامیوں کو ان کے اقدامات کا جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔