.

فرانسیسی شہریوں سے ناروا سلوک پر جرمنی کی معذرت، اظہار ندامت

ٹرمپ نے کورونا وائرس سے متعلق اقدامات میں بہت تاخیر کی: ہائیکو ماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی نے فرانس کے شہریوں کے خلاف روا رکھنے جانے والے مظالم اور مشکلات پر اظہار افسوس کیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ فرانسیسی شہری کووڈ 19 کے نتیجے میں فرانس کے اندر پیدا ہونے والی صورتحال سے بچنے کی خاطر دونوں ملکوں کے درمیان اس عالمی وبا سے قدرے محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں میں داخلے کی کوشش کر رہے تھے۔

اپنے ٹویٹر پیغام میں جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے کہا کہ کرونا کی وبا سے کوئی بھی قوم محفوظ نہیں رہی۔ اس مہلک مرض نے پوری انسانیت کو لیپٹ میں لے رکھا ہے۔ ہمیں اپنے فرانسیسی دوستوں کے ساتھ روا رکھنے جانے والے توہین آمیز سلوک پر دکھ پہنچا ہے۔ اس وقت ہم سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔

اس سے قبل خاتون وزیر اقتصادی امور انقی گیلنگر نے بھی جرمن کی جانب سے فرانسیسی شہریوں سے کیے جانے والے غیر انسانی سلوک پر معذرت کی تھی۔

جرمنی کی امریکی اقدامات پر تنقید

درایں اثنا جرمن وزیر خارجہ نے کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کے اقدامات کو سست قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ہائیکو ماس نے چین اور ہنگری پر بھی تنقید کی۔

جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے 'ڈیئر اشپیگل‘ کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں امریکی صدر کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ماس کا کہنا تھا کہ امریکا نے کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے اور اس مرض کو سنجیدہ نہیں لیا۔

امریکا کے ساتھ ساتھ انہوں نے بیجنگ حکومت کے طریقہ کار پر بھی تنقید کی۔ اپنے انٹرویو میں ہائیکو ماس نے یہ بھی کہا کہ جرمنی اور یورپ نہ تو چینی طریقے پر عمل کر سکتے ہیں اور نہ ہی امریکی طریقے پر۔ انہوں نے کہا، ''چین نے آمرانہ اقدامات کیے جب کہ امریکا نے طویل وقت تک وائرس کے خطرے کو کم ظاہر کیا۔ یہ دو انتہائیں ہیں جو یورپ کے لیے ماڈل نہیں ہو سکتیں۔‘‘

جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کی جارحانہ تجارتی پالیسیوں نے حفاظتی طبی سامان کے حصول کی ملکی کوششوں کو متاثر کیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے بحران کے بعد واشنگٹن حکومت اپنے بین الاقوامی تعلقات کا از سر نو جائزہ لے گی۔

جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ چین کو یوں ظاہر نہیں کرنا چاہیے کہ چین میں لاک ڈاؤن کے لیے اختیار کردہ آمرانہ طرز عمل درست تھا۔ ماس کے مطابق، ''صاف ظاہر ہے کہ اس بیانیے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ لیکن میں دوسروں کو اس بارے میں خبردار کر رہا ہوں۔ بہرحال کورونا سے ظاہر نہیں ہوتا کہ کون سا ماڈل برتر ہے ۔۔۔ آمرانہ نظام ایسی وبا سے نمٹنے کے لیے ضروری نہیں ہے۔‘‘