.

کرونا میں جکڑا بیلجیم آج تک دُنیا کی آنکھوں سے اوجھل کیوں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین سے پھیلنے والی جان لیوا کرونا وباء نے مشرق سے مغرب تک دنیا کو اپنے لپیٹ میں لے لیا۔ عالمی ذرابلاغ کی توجہ اب تک کرونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک پر مرکوز رہی ہ ہے مگر بیلجیم ایک ایسا ملک ہے جو کرونا میں بڑی طرح جکڑے جانے کے باوجود عالمی میڈیا کی آنکھوں اور توجہ سے اوجھل رہا ہے۔

کرونا وباء اب تک 193 ملکوں میں پھیل چکی ہے۔ امریکا کی 30 کروڑ 30 لاکھ کی آبادی میں اب تک 19 ہزار 882 افراد ہلاک اور پانچ لاکھ متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے بعد اٹلی، اسپین، فرانس اور چین کا نام لیا جاتا ہے۔ مگر اب تک بیلجیم کے بارے میں کوئی قابل ذکر تفصیل سامنے نہیں آئی۔ تازہ رپورٹس کے مطابق بیلجیم میں کرونا سے 3346 افراد ہلاک اور 28 ہزار متاثر ہوئے ہیں۔ بیلجیم کی کل آبادی ایک کروڑ 15 لاکھ نفوس پرمشتمل ہے۔ اگر اسی تناسب سے کرونا سے امریکا میں ہلاکتیں ہوتیں تو امریکا میں آج ایک لاکھ لوگ مر چکے ہوتے۔

کرونا میں جکڑے بیلجیم کا متاثرہ ممالک میں ساتواں نمبرہے۔ اس ترتیب میں سب پہلے امریکا کا نمبر ہے اور اس کے بعد اٹلی، فرانس، برطانیہ اور ایران شامل ہیں۔ بیلجیم میں کرونا سے ہلاکتیں چین سے زیادہ ہوچکی ہیں۔ حالانکہ چین کی آبادی ایک ارب 40 کروڑ ہے اور وہاں پر 3339 افراد کرونا سے ہلاک ہوئے ہیں۔

بیلجیم کی آبادی امریکا کے مقابلے میں دس گنا کم ہے مگر آبادی کے تناسب کے اعتبارسے ہلاکتیں کئی گنا زیادہ ہوئی ہیں۔

بیلجین وزارت داخلہ کے زیرانتظام قائم کردہ کرائسز سیل کے مطابق ملک میں کرونا کا پہلا مریض 26 مارچ کو سامنے آیا۔ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 220 افراد ہلاک ہوئے۔ اس طرح فی گھنٹہ 42 افراد ہلاک ہوتے رہے ہیں۔ جب کہ 1298 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ بیلجیم میں کرونا مریض کے سامنے آنے کے بعد اوسطا 7 افراد فی گھنٹہ ہلاک ہوتے رہے ہیں۔