.

حوثی ملیشیا یمن میں جنگ بندی کا جواب دے:یو این سلامتی کونسل کا مطالبہ

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے یک طرفہ اعلانِ جنگ بندی کا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے یمن میں یک طرفہ طور پر اعلانِ جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے اور حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اس سیز فائر کا اسی انداز میں جواب دے۔

ان ممالک نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ وہ مملکت سعودی عرب کے عرب اتحاد کی جانب سے یمن میں جنگ بندی کے یک طرفہ اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔یہ اقدام اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی اپیل پر اور امن عمل کو تقویت پہنچانے کے لیے کیا گیا ہے۔حوثیوں سے مطالبہ ہے کہ وہ بھی بلا تاخیر اسی قسم کے عزم کا اعلان کریں۔‘‘

’’ سلامتی کونسل کے رکن ممالک متعلقہ فریقوں پر زوردیتے ہیں کہ وہ سیکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفیتھس کے ساتھ تعاون جاری رکھیں تاکہ ایک ایسا مشمولہ اور جامع سیاسی سمجھوتا طے پاسکے جس میں تمام یمنیوں کے جائز تحفظات کا ازالہ کیا گیا ہو۔‘‘بیان میں مزید کہا گیا ہے۔

یمن کی قانونی حکومت کی حمایت میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف برسرپیکار عرب اتحاد نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے جمعرات کی دوپہر سے دو ہفتے تک مکمل جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔یمن کے صوبہ الحدیدہ کے نائب گورنر ولید القدیمی کے مطابق حوثیوں نے اس جنگ بندی کا یوں جواب دیا ہے کہ انھوں نے کم وبیش روزانہ ہی شہری علاقوں میں توپ خانے سے گولہ باری جاری رکھی ہوئی ہے۔