.

یوکرین کے مسافرطیارے کی تباہی،ایران سے رکن پارلیمان کے بیان کی وضاحت کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرین کے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم برائے یورپ اور یورو اطلانتک اتحاد ودیم پریسٹائیکو نے ایران سے اس کے ایک رکن پارلیمان کے ایک اشتعال انگیز بیان کی فوری وضاحت طلب کی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے ایرانی فوج نے یوکرین انٹرنیشنل ائیرلائنز کے مسافر طیارے کو مار گرا بہت اچھا کام کیا تھا۔اس واقعے میں طیارے میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کی فضائی فورس نے 8 جنوری کو یوکرین کے اس مسافر طیارے کو دارالحکومت تہران سے اڑان بھرنے کے تھوڑی دیر کے بعد ہی ایک میزائل سے مار گرایا تھا۔ ایرانی حکومت نے اس واقعے میں ملوّث ہونے کی تردید کی تھی لیکن چند روز کے بعد اعتراف کیا تھا کہ عراق میں امریکی فوج کے اڈوں کی جانب چلایا گیا ایک میزائل اس مسافر طیارے کو جا لگا تھا۔

اس واقعے پر ایران کے بعض عہدے داروں نے یوکرین سے معذرت کی تھی اور واقعے کو انسانی غلطی کا شاخسانہ قراردیا تھا لیکن گذشتہ ہفتے ایرانی پارلیمان کے ایک رکن حسن نوروزی نے فوج کی اس کارروائی کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ مسلح افواج نے تو اپنی ذمے داری نبھائی تھی کیونکہ اس طیارے کی نقل وحرکت مشتبہ تھی۔

نوروزی نے یہ بھی کہا تھا کہ اس واقعے کے سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آنی چاہیے۔انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ’’ یہ طیارہ حادثے سے ایک ہفتہ قبل اسرائیل میں تھا اور اس میں چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔‘‘

ان کے اس بیان پر یوکرینی وزیر خارجہ اور دوسرے عہدے داروں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور ایران سے اس کی وضاحت طلب کی ہے۔

واضح رہے کہ تہران کے بین الاقوامی ہوائی ڈے کے نزدیک میزائل کا نشانہ بننے والے یوکرینی طیارے میں 82 ایرانی شہری، 63 کینیڈین ،11 یوکرینی اور باقی دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد سوار تھے۔وہ تمام لقمہ اجل بن گئے تھے۔ ایران نے اس حادثے کے بعد سے اتوار تک طیارے کے بلیک باکس بین الاقوامی مبصرین کے حوالے نہیں کیے ہیں۔