امریکی بحری جنگی جہاز 'روز ویلٹ' میں کرونا وائرس کیسے پہنچا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کرونا کی وباء نے ایسی جگہوں میں دراندازی کرکے اپنے وار کیے ہیں جہاں انسان تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یہ وباء سمندر کی وسعتوں میں موجود بحری جہازوں تک بھی جا پہنچی۔ اس کی بڑی مثال امریکی بحریہ کا تھیوڈور روزویلٹ کا بحری بیڑا ہے جس پر موجود عملے کے 550 افراد میں سے 103 کرونا کا شکار ہوچکے ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ یہ وائرس جہاز تک کیسے پہنچا۔ اس کے کپتان 'بریٹ کروزر' کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ کروز کی برطرفی اس وقت عمل میں لائی گئی جب اس کا ایک خط ذرائع ابلاغ کے ذریعے لیک ہوا۔ یہ خط اس نے اعلیٰ افسران کو لکھا تھا جس میں اس نے جہاز کو خالی کرنے کو کہا گیا تھا۔

امریکی اخبار "نیو یارک ٹائمز" نے بتایا ہے کہ 5 مارچ کو ویتنام کی دا نانگ بندرگاہ میں مشہور طیارہ بردار بحری جہاز کو لنگر انداز ہونے پر ملاحوں کے ذریعے "تھیوڈور روزویلٹ" تک کرونا وائرس پہنچا۔ ویتنام جنگ کے خاتمے کے بعد سے کسی امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کا اس ملک کا دوسرا دورہ ہے۔

اس وقت دا نانگ سے دور ملک کے شمال میں ویتنام میں کرونا کے متاثرین کے 16 کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ بحر الکاہل میں امریکی بحریہ کے سینیر افسر ایڈمرل ڈیوڈ ڈیوڈسن نے حکم دیا کہ طویل منصوبہ بند دورہ خطے میں خاص طور پر بیجنگ کے خلاف فوجی طاقت کی نمائش کے لیے جاری رکھا جائے گا۔

چونکہ دا نانگ کی بندرگاہ کی چوکیاں اتنی چھوٹی ہیں کہ روزویلٹ کا سائز کا جہاز ان میں لنکرانداز نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے جہاز جہاز بندرگاہ سے باہر کھڑا کرکے جہاز کے عملے نے ساحل تک پہنچنے کے لئے چھوٹی کشتیاں استعمال کیں۔

عملے کے ارکان نے اس شہر کے ہوٹلوں میں رہتے ہوئے تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں۔ عملے ایک اہلکار نے سوشل میڈیا پر اپنی تصویر کے ساتھ لکھا کہ مجھے ویتنام بہت اچھا لگتا ہے۔

دا نانگ میں چوتھے اور آخری دن درجنوں ملاحوں نے ایک رات ایک ایسے ہوٹل میں گذاری جہاں کرونا سے متاثرہ دو برطانوی قیام کرچکے تھے۔ اسی رات روز ویلٹ کمانڈر نے جہاز کے عملے میں سے کچھ کووائرس کا شکار ہونے کے خطرے کے پیش نظر واپس جہاز پرجانے کے احکامات دیے تھے۔

"نیو یارک ٹائمز" کے مطابق روزویلٹ سمندر میں لوٹا اور ملاح طبی معائنہ میں رہے۔ چونکہ کوویڈ 19 کے لیے 14 دن علامتوں کے ظاہر ہونے کے لیے مقرر ہیں۔ اس لیے اس عرصے میں طیارہ بردار جہاز پر طیارے جاپان اور فلپائن کے لیے سامان لاتے اور لے جاتے رہے۔

اس کے بعد 24 مارچ کی صبح سویرے بحری جہاز میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ اعلان کیا گیا کہ جہاز پرموجود کچھ اہلکار کرونا کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس وقت تک اس جہاز نے لمبا سفر کرتے ہوئے مغربی بحر الکاہل بھی پارکرلیا تھا۔

ملاح جانتے تھے کہ کچھ ہوا ہے۔ جلد ہی سب کو معلوم ہو گیا کہ ملاحوں میں سے تین کے کرونا وائرس کے مثبت نتائج آئے ہیں۔اس وباء کا آغاز جہاز کے ایٹمی ری ایکٹر ڈویژن میں ہوا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں