ایرانی جیلوں میں بغاوت کا خطرہ منڈلا رہا ہے:منحرف ایرانی لیڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران کے ایک منحرف سیاسی کارکن جس نے گذشتہ برس سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے استعفے کامطالبہ کیا تھا نےانکشاف کیا ہے کہ ایرانی جیلوں میں بغاوت کا خطرہ آج بھی بدستور موجود ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی جیل میں قید محمد نوری زاد نے گذشتہ برس موسم گرما میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔

نوری زاد ان ایرانی سیاسی کارکنوں میں شامل ہے جنہوں نے ایرانی رجیم کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہے۔

محمد نوری زاد نے جیل سے ایک خط میں کہا کہ ہمیں انٹلیجنس ٹارچر سینٹر سے مشہد کی وکیل آباد جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جیلوں میں بغاوت کی وجہ سے حکام ہمیں انٹیلی جنس ٹارچر سینٹر لے گئے۔

نوری زاد ان 14 سیاسی اور سول کارکنوں میں شامل ہیں جنہوں نے گذشتہ جون میں مطالبہ کیا تھا کہ خامنہ ای مستعفی ہوجائیں۔ اس کے بعد انہیں 11 اگست کو گرفتار کرلیا گیا اور ان میں سے پانچ کو ایران کی انقلاب عدالتوں کے حوالے کردیا گیا۔

ان میں عبد الرسول مرتضوی ، محمد حسین سبہری ، فاطمہ سبہری اور ہاشم خواستار شامل تھے۔

یہ قابل ذکر ہے کہ ایران میں "اسلامی انقلاب عدالتیں" 1979 میں انقلاب کے فورا بعد قائم کی گئیں۔ چار دہائیوں کے بعد بھی ان عدالتوں کو مخالفین اور سیاسی کارکنوں کے خلاف کاروائی اور قانونی چارہ جوئی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں