ترکی : انقلاب کی کوشش کے بعد کریک ڈاؤن کے اہم کردار وزیر داخلہ سلیمان صویلو مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے وزیر داخلہ کے استعفے کو منظور کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اتوار کی شب ایوان صدر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ "ملک میں فوجی انقلاب کی آخری ناکام کوشش کے بعد سے آج تک وزیر داخلہ سلیمان صویلو نے جو اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں ،،، ان کے پیشِ نظر ہم وزیر داخلہ کے مستعفی ہونے کو مسترد کرتے ہیں"۔

سلیمان صویلو کی عمر 50 برس ہے۔ انہوں نے اگست 2016 یعنی ترکی میں فوجی انقلاب کی ناکام کوشش کے ایک ماہ بعد ملک کے وزیر داخلہ کا منصب سنبھالا۔ صویلو نے 2016 کے واقعات کے بعد ہونے والے کریک ڈاؤن کے میں مخالفین پر آہنی ہاتھوں سے ضرب لگائی۔ انہوں نے وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کی مہم کی قیادت بھی کی۔ گرفتاریوں میں انقلاب کے حامیوں کے علاوہ کردوں کے معاون اپوزیشن کے عناصر اور حکام پر تنقید کرنے والے صحافی بھی لپیٹ میں آئے۔

سلیمان صویلم نے اتوار کی شام اپنا استعفا پیش کیا۔ یہ پیش رفت کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے ملک میں جامع تنہائی نافذ کرنے کے اچانک اعلان کے ایک روز بعد سامنے آئی۔

صویلم نے اپنے بیان میں کہا کہ "میں التماس کرتا ہوں کہ میری قوم جس کے لیے میں نے کبھی ضرر کا سبب بننے کا ارادہ نہیں کیا اور میرے صدر جن کا میں ساری عمر وفادار رہوں گا ،،، یہ میری معذرت قبول کریں۔ میں وزیر داخلہ کے عہدے سے رخصت ہو رہا ہوں جس کو سنبھالنا میرے لیے ایک اعزاز رہا"۔

تاہم ایوان صدر نے اس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "وزیر داخلہ کا استعفا قبول نہیں کیا گیا۔ وہ اپنی ذمے داری انجام دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے"۔

مستعفی وزیر داخلہ نے کروڑوں شہریوں اور یہاں تک کہ شہروں کے میئروں تک کو حیران کر دیا تھا۔ ان میں ایک بڑی تعداد کے مطابق انہیں ملک کے 30 بڑے شہروں میں دو روز کے لیے کرفیو کے نفاذ سے متعلق فیصلہ جاری ہونے سے محض چند گھنٹے قبل اس کا علم ہوا تھا۔

صویلو نے جمعے کی شام ملک میں افراتفری کے مناظر دیکھے جانے کے بعد کہا کہ تنہائی اور الگ تھلگ کیے جانے کے فیصلے کا نفاذ صدر رجب طیب ایردوآن کی ہدایت پر عمل میں آیا۔ تاہم اتوار کی شام انہوں نے اپنے بیان سے رجوع کرتے ہوئے کہا کہ وہ "اس اقدام کے نافذ کیے جانے کی مکمل ذمے داری قبول کرتے ہیں"۔ اپوزیشن کے مطابق یہ تدبیر "ایردوآن کے چہرے کی بشاشت باقی رکھنے کی کارروائی ہے"۔

حزب اختلاف کی پیپلز ریپبلکن پارٹی کے سربراہ کمال قلیچ دار اولو نے گذشتہ روز ٹیلی وژن کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ "یہ اچھی نیت سے کیا جانے والا ایک اقدام ہے۔ اس کا مقصد رواں ہفتے کے اختتام کے دوران کرونا کی وبا کے پھیلاؤ کو سست بنانا ہے"۔

دوسری جانب اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے انٹرنیٹ پر مذکورہ حکومتی فیصلے کے نفاذ کے حوالے سے کڑی تنقید کی۔ انہوں نے سرکاری حکام پر الزام عائد کیا کہ اس طرح ہزاروں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی گئیں۔

یاد رہے کہ ترکی میں اب تک 57 ہزار کے قریب افراد کوویڈ-19 وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ان میں 1200 افراد کی موت واقع ہو چکی ہے۔ یہ معلومات اتوار کے روز ترکی کی وزارت صحت کی جانب سے جاری سرکاری اعداد و شمار سے حاصل ہوئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں