ویتنام : ATM مشینوں سے مالی رقوم کے بجائے چاولوں کی فراہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ویتنام کے شہر ہو چی من میں ایک کاروباری شخصیت نے ATM مشینیں تیار کی ہیں جو چوبیس گھنٹے کام کرتی ہیں۔ تاہم دل چسپ بات یہ ہے کہ ان مشینوں سے مالی رقوم نہیں بلکہ چاولوں کے بیگز باہر آتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد اُن افراد کی مدد کرنا ہے جو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے ملک بھر میں عائد پابندیوں کے سبب اپنی ملازمتوں اور آمدنی کے ذرائع سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

ویتنام میں کرونا وائرس کے 262 کیسوں کا اندراج ہو چکا ہے تاہم ابھی تک کسی کے فوت ہونے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔ البتہ 31 مارچ کو ملک بھر میں 15 روز کے لیے سماجی فاصلے سے متعلق اصول و ضوابط نافذ کر دیے گئے۔ اس کے نتیجے میں بہت سی دکانیں اور چھوٹے کاروبار بند ہو گئے اور ہزاروں افراد عارضی طور پر کام اور آمدنی سے فارغ ہو گئے۔

مذکورہ اے ٹی ایم میشینوں سے چاولوں کا ڈیڑھ کیلو کا بیگ نکل کر باہر آتا ہے۔ یہ بیگ حاصل کرنے والے ضرورت مند مزدور ہوتے ہیں۔ ان میں اکثریت یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں یا خوانچہ فروشوں کی ہوتی ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق اسی نوعیت کی "چاول فراہم کرنے والی اے ٹی ایم مشینیں" ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی قائم کی گئی ہیں۔

ویتنام میں اس منفرد خیال کو عملی جامہ پہنانے والی شخصیت کا کہنا ہے کہ "میں نے انٹرنیٹ پر چاولوں کی اے ٹی ایم مشینوں کے بارے میں پڑھا تھا۔ میں نے اس کو جانچا اور مجھے یقین نہ آیا کہ یہ حقیقتا کام کر رہی ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں