چین نے کرونا وائرس سے متعلق تحقیقی مطالعات پر پابندی لگادی :رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

چین نے کرونا وائرس سے متعلق تحقیقی مطالعات کی اشاعت پر پابندی عاید کردی ہے۔چین کی دو جامعات نے اس ضمن میں مرکزی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں آن لائن نوٹس شائع کیے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کی مرکزی حکومت کے احکامات کے بعد انٹر نیٹ سے تمام سابقہ اعلانات حذف کر دیے گئے ہیں۔چینی حکومت کے اس فیصلے کے بعد ایک مرتبہ پھر اس کے بارے میں نئے سوال پیدا ہوگئے ہیں اور ان الزامات کا اعادہ کیا جارہا ہے کہ اس نے ملک میں کرونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد ابتدائی ایام میں کیسوں کی درست تعداد رپورٹ نہیں کی تھی اور پروازوں کو آمد ورفت جاری رکھنے کی اجازت دی تھی جس کی وجہ سے دوسرے ممالک میں بھی یہ مہلک وائرس پھیل گیا تھا۔

سی این این کے مطابق چین نے ہنوز کرونا وائرس سے متعلق معلومات کو چھپانے کا سلسلہ جاری رکھا ہواہے۔اس کی رپورٹ میں چین کی وزارت تعلیم کے شعبہ سائنس اور ٹیکنالوجی پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ اس نے ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ وائرس کی اصل سے متعلق اکیڈیمک پیپروں ( تحقیقی مقالوں) کا سختی اور باریک بینی سے انتظام کیا جائے۔‘‘

اس ہدایت نامے میں ایسے مقالوں اور جرائد کی منظوری کے عمل کا طریق کار بھی بیان کیا گیا ہے۔سائنس دان اپنے تحقیقی مقالوں کو جامعات کی تدریسی کمیٹیوں کو جمع کرائیں گے اور وہ پھر انھیں حتمی منظوری کے لیے وزارتِ تعلیم کے شعبہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو بھیجیں گی۔

وزارت پھر ان مقالوں کو چین کی مرکزی انتظامی اتھارٹی اسٹیٹ کونسل کو بھیجے گی۔اس کی ٹاسک فورس ان کے جائزے کے بعد ان کی اشاعت یا عدم اشاعت کے بارے میں متعلقہ جامعہ کو مطلع کرے گی۔

سی این این نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا ہے کہ ’’ کووِڈ-19 سے متعلق دوسرے تحقیقی پیپروں کا جامعات کی تدریسی کمیٹیاں جائزہ لیں گے۔ وہ ان کی تدریسی قدروقیمت اور اشاعت کے مناسب وقت کی بنا پر ان کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں گی۔‘‘

ایک چینی محقق نے امریکی کیبل نیوز نیٹ ورک کو اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط بتایا ہے کہ یہ ایک افسوس ناک پیش رفت ہے،اس سے اہم سائنسی تحقیق میں رکاوٹ حائل ہوسکتی ہے۔اس محقق نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ ’’ یہ چینی حکومت کی ایک مربوط کوشش ہوسکتی ہے اور اس کا مقصد کرونا سے متعلق بیانیے پر کنٹرول ہے اور یہ ظاہر کرنا ہے کہ اس مہلک وائرس کا منبع چین نہیں تھا۔‘‘

چین کی وزارت تعلیم کے شعبہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے عملہ کے ایک رکن نے اس ہدایت نامے کے اجرا کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ یہ سرکاری دستاویز عام اشاعت کے لیے نہیں تھی بلکہ صرف دفتری مقاصد کے لیے ہی تھی۔

واضح رہے کہ اسی ماہ کے اوائل میں امریکا نے چین پر کرونا وائرس کی مہلک وَبا سے متعلق کذب بیانی سے کام لینے کا الزام عاید کیا تھا۔اس نے وائٹ ہاؤس کو پیش کی گئی ایک انٹیلی جنس رپورٹ کا حوالہ دیا تھا جس میں چین پر معلومات کو چھپانے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ چین پر کرونا وائرس سے متعلق ڈیٹا جلد شئیر نہ کرنے کا بھی الزام عاید کیا تھا۔اے ایف پی نے ان کا یہ بیان نقل کیا تھا کہ ’’انھوں (چینیوں) نے جو کچھ کیا ہے،دنیا اس کی بھاری قیمت چکا رہی ہے۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں