یواے ای: کرونا وائرس کا شکار 172افراد صحت یاب ،مزید تین اموات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

متحدہ عرب امارات نے گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کا شکار مزید 172 افراد کے صحت یاب ہونے کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ اس مہلک وائرس کا شکار مزید تین افراد چل بسے ہیں جس کے بعد مہلوکین کی تعداد 25 ہوگئی ہے۔

یو اے ای کی وزارت صحت کے مطابق اب تک 852 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔وزارت نے سوموار کو نیوز کانفرنس میں کرونا وائرس کے کسی نئے کیس کی اطلاع نہیں دی ہے۔اتوار کو اس نے 387نئے کیس ریکارڈ کیے تھے اور اس وقت ملک میں اس مہلک وائرس کے کل کیسوں کی تعداد 4123 ہوچکی ہے۔

وزارت صحت کی خاتون ترجمان ڈاکٹر فریدہ الحسنی گذشتہ روز نیوزکانفرنس میں بتایا تھا کہ یو اے ای میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد میں اب روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کرونا کی علامات کے حامل افراد کے زیادہ تعداد میں ٹیسٹ کیے جارہے ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو تشخیص کے بعد الگ تھلگ کیا جاسکے اور ان کے علاج پر توجہ مرکوز کی جاسکے۔

ترجمان نے بخار میں مبتلا یا نظام تنفس کے عوارض کھانسی یا سانس ٹوٹنے وغیرہ سے دوچار افراد کو ہدایت کی کہ وہ ان علامات کو معمولی نہ سمجھیں اور اپنے نزدیک ترین سنٹر سے رجوع کریں اور وہاں اپنے ٹیسٹ کرائیں۔انھوں نے شہریوں پر زوردیا کہ وہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کریں،کسی ٹیسٹ سنٹر پر جاتے وقت چہرے پر ماسک پہنیں اور سماجی فاصلہ اختیار کریں۔

دبئی سمیت یو اے ای میں شامل امارتوں نے اس وَبا کو پھیلنے سے روکنےکے لیے مختلف سخت قواعد و ضوابط اور قوانین نافذ کیے ہیں۔بڑے شہروں میں لاک ڈاؤن ہے اور لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر پابندی عاید ہے،بڑے شاپنگ مال اور کاروباری مراکز بند ہیں۔متاثرہ افراد کے ٹیسٹ کے لیے بڑے شہروں میں مراکز قائم کیے ہیں۔سوموار کو فجیرہ میں بھی کرونا وائرس کے ٹیسٹ سنٹر نے کام کا آغاز کردیا ہے۔

یو اے ای نے چار اپریل کو ملک میں نافذ 24 گھنٹے کے کرفیو میں 18 اپریل تک توسیع کر دی تھی۔اس دوران میں قومی صفائی پروگرام پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔اس مہم کے تحت سرکاری تنصیبات، عمارتوں، بس اسٹیشنوں اور ٹراموں کو مصفا کیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں