.

امریکا کو ایران کے ساتھ "جنگ کے سائے" کا اسلوب اپنانا چاہیے : تھنک ٹینک رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں ایرانی اہداف کے خلاف اسرائیل کی غیر تسلیم شدہ فوجی مہم ،،، امریکا کے لیے ایک ایسے وقت میں نمونہ بن سکتی ہے جب واشنگٹن مشرق وسطی کے تمام حصوں میں تہران کے مسلح ایجنٹس کے نیٹ ورک کی روک تھام کے لیے کوشاں ہے۔ اس بات کا انکشاف نیو امریکن سیکورٹی سینٹر کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

حالیہ برسوں میں شام میں اسرائیل کی جانب سے جاری غیر اعلانیہ فوجی مہم کے دوران 200 سے زیادہ فضائی حملے کے جا چکے ہیں۔ اس دوران 2 ہزار سے زیادہ میزائلوں کے ذریعے ایران کے زیر انتظام اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کا ایک حصہ شائع کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے اپنایا گیا اسلوب حالیہ امریکی حکمت عملی سے زیادہ مؤثر اور کارگر ہو گی۔

رپورٹ کے ایک مؤلف ایلن گولڈن برگ کا کہنا ہے کہ "یہ حکمت عملی ایران کو پیچھے کی جانب دھکیل سکتی ہے ، امریکا کے بعض مقاصد کو پورا کر سکتی ہے اور ... ایک بھرپور جنگ بھڑکنے کے موقع کو بڑی حد تک کم کر سکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر عائد پابندیوں کو بڑھانے کے لیے "انتہائی دباؤ" کی پالیسی کی نگرانی کی۔ ان پابندیوں نے ایران کی معیشت پر کاری ضرب لگائی۔ گذشتہ موسم بہار میں جب ایران نے امریکی مفادات پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا تو ٹرمپ انتظامیہ نے ابتدائی طور پر کوئی قابل ذکر فوجی اقدام نہیں کیا .. سوائے یہ کہ سائبر حملے کے ذریعے ایران کی کارگو بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو ہدف بنایا گیا۔

اسی طرح گذشتہ برس ستمبر میں سعودی عرب میں تیل کی دو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو امریکی انتظامیہ نے اپنے مرکزی حلیف پر حملے کے جواب میں فوجی کارروائی کے ذریعے جواب نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ ایران نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کے غیر جارحانہ موقف میں اس وقت تبدیلی آئی جب دسمبر میں عراق میں ایک میزائل حملے میں ایک امریکی ٹھیکے دار کی ہلاکت ہوئی۔ اس کے جواب میں ٹرمپ نے عراق میں حزب اللہ بریگیڈز تنظیم کے متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کی اجازت دی۔ عراقی حزب اللہ ایران کی حمایت یافتہ ایک ملیشیا ہے۔ امریکی ذمے داران نے مذکورہ حملے کے حوالے سے اسی تنظیم کو ملامت کا نشانہ بنایا تھا۔

اس حملے کے بعد جس میں ایران نواز ملیشیا کے مطابق اس کے کم از کم 25 ارکان مارے گئے تھے ،،، ملیشیا کے افراد نے بغداد میں امریکی سفارت خانے پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔ اس کے کئی روز بعد امریکی ڈرون طیارے نے بغداد میں ایک گاڑی کو بم باری کا نشانہ بنایا۔ اس گاڑی میں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کا سربراہ قاسم سلیمانی سوار تھا۔ القدس فورس کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے وہ خطے کے تمام علاقوں میں تہران نواز ملیشیاؤں کی سپورٹ کے عمل کی نگرانی انجام دیتا رہا تھا۔

ایران نے جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں عراق میں امریکی تنصیبات پر میزائلوں کی بارش کر دی۔ اس کے نتیجے میں 100 سے زیادہ امریکی فوجی زخمی ہوئے۔ یہ 1990ء کی دہائی کے بعد سے امریکی فوجیوں پر بیلسٹک میزائلوں کا پہلا حملہ تھا۔

اس پیش رفت کے بیچ امریکی وزارت خارجہ اور وائٹ ہاؤس کے بعض ذمے داران نے مطالبہ کیا کہ ایران کے خلاف زیادہ سخت اقدامات کیے جائیں۔ مذکورہ رپورٹ تیار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ اسرائیل کے اسلوب کے زیادہ قریب اقدام ہو سکتا ہے۔

ایران نے سال 2016 کے اواخر میں شام میں اپنے فوجی وجود کو مضبوط بنانے کے اقدامات کرنا شروع کیے۔ اس پر اسرائیلی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے شام میں ایرانی اہداف کو نشانہ بنانے کا آغاز کیا۔

اس اسلوب کی کنجی اسرائیل کی وہ کوششیں ہیں جو وہ شام میں ایرانی نقصان کو ادنی ترین حد تک کم کرنے کے لیے کر رہا ہے۔ ساتھ ہی وہ سرکاری طور پر ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کرتا۔ یہ دونوں باتیں اسرائیل کی جانب سے اس کوشش کا حصہ ہیں کہ ایرانی قیادت پر پڑنے والے اس دباؤ پر روک لگائی جائے جو طاقت کے ساتھ جواب دینے کا تقاضا کرتا ہے۔

رپورٹ لکھنے والے دونوں ماہرین کے مطابق اسرائیل کی یہ عسکری مہم تدبیری پہلو سے کامیاب تھی۔ اس نے ایران کو مجبور نہیں کیا کہ وہ دمشق میں اپنی حلیف حکومت کا ساتھ چھوڑ جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "اسرائیلیوں نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ عسکری کارکردگی کو اس بات کی ہر گز ضرورت نہیں ہوتی کہ مذاکرات کی میز پر موجود فریق کو مکمل طور پر منتقل کر دیا جائے"۔