.

سعودی عرب: کرونا وائرس سے 8 اموات ، 435 نئے کیسوں کی تصدیق

عوام افواہوں پر کان نہ دھریں،لاک ڈاؤن کا خاتمہ قبل از وقت ہوگا،اس کے منفی اثرات ہوسکتے ہیں:ترجمان وزارتِ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت صحت نے گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس سے مزید آٹھ ہلاکتوں اور 435 نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے۔

وزارت صحت نے منگل کے روز بتایا ہے کہ مملکت میں اب کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 73 ہوگئی ہے اور کل تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد 5369 ہوگئی ہے۔

دارالحکومت الریاض میں کرونا وائرس کے ٹیسٹوں کے بعد 114 نئے کیس سامنے آئے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں 111 ، الدمام میں 69 ،مدینہ منورہ میں 50 اور جدہ میں 46 نئے کیسوں کی تصدیق کی گئی ہے۔الہفوف میں 16 ، بریدہ میں 10 اور ظہران میں سات کیسوں سمیت مملکت کے دوسرے شہروں میں بھی ایک،ایک دو، دو افراد اس مہلک وَبا کا شکار ہوئے ہیں۔

وزارت صحت کے ترجمان محمد العبد العالی نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے وفات پانے والے تمام آٹھ افراد مکین ہیں اور ان کے سوگوار خاندانوں اور پیاروں کو تعزیتی پیغامات بھیج دیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ ابھی تک ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے ہیں کہ گرم موسم کرونا وائرس پر کیسے اثرانداز ہوگا۔انھوں نے عوام سے کہا کہ وہ افواہوں پر کان دھرنے سے گریز کریں۔

انھوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کا خاتمہ قبل از وقت ہوگا اور اس کے منفی اثرات ہوسکتے ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ وزارت صحت روزانہ کی بنیاد پر صورت حال کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کی بنا پر ہی وہ یہ فیصلہ کرے گی کہ کہاں کہاں پابندیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔

انھوں نے شہریوں اور مکینوں پر زوردیا ہے کہ وہ اپنی بھلائی کی خاطر گھروں ہی میں مقیم رہیں اور کرونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سماجی میل جول میں فاصلے کو برقرار رکھیں۔

سعودی عرب میں اگرچہ دوسرے خلیجی عرب ممالک کے مقابلے میں کرونا وائرس کے روزانہ زیادہ کیس سامنے آرہے ہیں اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے لیکن 9 اپریل کے بعد یہ شرح 10 سے 12 فی صد رہی ہے اور 31 مارچ کے بعد مریضوں کی شرح 12 فی صد سے زیادہ نہیں بڑھی ہے۔

ڈاکٹر محمد العبدالعالی کے بہ قول کرونا وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی عمریں مختلف ہیں، ان میں نوجوان اور ضعیف العمر دونوں شامل ہیں۔عمروں کے ان مختلف گروپوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہر کوئی اس مہلک وائرس کا شکار ہوسکتا ہے جبکہ ماہرین پہلے یہ کہہ رہے تھے کہ اس سے زیادہ تر بڑی عمر کے لوگ متاثر ہوسکتے ہیں۔

سعودی حکومت نے گذشتہ ڈیڑھ ایک ماہ کے دوران میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کئی ایک سخت اقدامات کیے ہیں۔خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ایک فرمان کے تحت سعودی حکومت نے کرفیو کی میعاد میں تاحکم ثانی توسیع کردی ہے۔سعودی عرب نے 6 اپریل کو دارالحکومت الریاض سمیت پانچ شہروں تبوک ، الدمام ، ظہران ، الہفوف کے علاوہ چار گورنریوں جدہ ، طائف ، القطیف اور الخُبر میں دن رات کا کرفیو اور لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں پہلے ہی 24 گھنٹے کا کرفیو اور مکمل لاک ڈاؤن نافذ تھا۔

واضح رہے کہ سعودی وزیرصحت توفیق الربیعہ نے گذشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ مملکت میں آیندہ چند ہفتوں کے دوران میں کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ سے دو لاکھ تک ہوسکتی ہے۔انھوں نے سعودی اور غیرملکی ماہرین کے چار تحقیقی مطالعات پر مبنی یہ اعداد وشمار جاری کیے تھے۔

انھوں نےان مطالعات کے حوالے سے بتایا تھا کہ مملکت میں کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور ان میں کمی واقع نہیں ہورہی ہے۔اب مستقبل میں اس مہلک وائرس کے کیسوں کی تعداد کا انحصار ہر کسی کے تعاون اور حکومت کی جاری کردہ رہ نما ہدایات اور احتیاطی تدابیر پرعمل درآمد پر ہے۔