.

سعودی عرب :2019ء کی چوتھی سہ ماہی میں افرادی قوت میں خواتین کی تعداد میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں خواتین مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا سماجی کردار بخوبی انجام دے رہی ہیں اور مملکت کی کل افرادی قوت میں ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 2019ء کی چوتھی سہ ماہی میں افرادی قوت میں خواتین کی شرح میں 2۰8 فی صد اضافہ ہوا ہے اور اس طرح ان کی تعداد 26 فی صد ہوگئی ہے۔

اس سہ ماہی کے دوران میں سعودی عرب میں بے روزگاری کی شرح میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے اور وہ بدستور 12 فی صد برقرار رہی ہے۔2019ء کی تیسری سہ ماہی میں بے روزگاری کی شرح 12۰9 فی صد سے کم ہوکر 12 فی صد ہوگئی تھی۔

سعودی عرب کے ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق مملکت کی کل آبادی میں بے روزگاری کی شرح 5۰7 فی صد ہے۔واضح رہے کہ مملکت کے ایک تہائی مکین غیر سعودی ہیں۔

2020ء میں کرونا وائرس کی حالیہ وَبا کی وجہ سے مملکت میں بے روزگار افراد کی شرح میں تبدیلی رونما ہوسکتی ہے کیونکہ اس وقت دنیا بھر کی معیشتیں اس مہلک وَبا کی وجہ سے بُری طرح متاثر ہورہی ہیں۔سعودی عرب نے بڑے شہروں میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے 24 گھنٹے کا کرفیو اور لاک ڈاؤن نافذ کررکھا ہے جس کی وجہ سے تمام چھوٹے بڑے کاروبار بند ہیں اور صنعتوں کا پہیّا بھی جام ہوچکا ہے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030ء کے تحت مملکت میں کاروبار کرنے والے ادارے اور فرمیں سعودی شہریوں کو زیادہ تعداد میں ملازمتیں دینے کے پابند ہیں اور بہت سی ملازمتیں اور اُجرتی کام صرف سعودی شہریوں کے لیے مخصوص کیے جارہے ہیں اور سعودی خواتین کو بھی ملازمتیں دی جارہی ہیں۔ یوں مملکت کی افرادی قوت میں ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

ادارہ شماریات کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق بے روز گار افراد میں نوجوان کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ادارے کے سروے کے مطابق سعودی عرب کے 20 سے 29 سال تک عمروں کے حامل 64۰1 فی صد نوجوان بے روزگار ہیں۔

ادارہ شماریات مملکت میں لیبرمارکیٹ کا سہ ماہی بنیاد پر سروے جاری کرتا ہے۔ وہ انسانی وسائل اور سماجی ترقی کی وزارت ،انسانی وسائل ترقیاتی فنڈ ،قومی اطلاعاتی مرکز اور تنظیم عامہ برائے سماجی بیمہ (جی او ایس آئی) کا ڈیٹا بھی استعمال کرتا ہے۔