.

سعودی کابینہ کا ورچوئل اجلاس ،کرونا وائرس سے پیداشدہ صورت حال پر تبادلہ خیال

شہریوں کو کروناسے بچاؤ کے لیے وزارتِ صحت اور ڈبلیو ایچ او کی رہ نما احتیاطی تدابیرپر عمل درآمد کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے زیرصدارت سعودی کابینہ کا ورچوئل اجلاس منعقد ہوا ہے اور اس میں کرونا وائرس سے مملکت اور دنیا بھر میں پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا گیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی ( ایس پی اے) کے مطابق کابینہ نے شاہ سلمان کے حال ہی جاری کردہ شاہی فرمان کو سراہا ہے جس کے تحت انھوں نے نجی شعبے کی کمپنیوں کو ان کے ملازمین کی تن خواہوں کی ادائی کے لیے نو ارب ریال (دو ارب 40 کروڑ ڈالر) کی رقم دینے کا حکم دیا ہے تاکہ یہ کمپنیاں اپنے عملہ کو ملازمتوں سے فارغ نہ کریں۔

سعودی کابینہ نے شاہ سلمان کے 120 ارب ریال ( 31 ارب 90 کروڑ ڈالر) کے امدادی پیکج اور کرونا وائرس کے معیشت پر منفی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے دوسرے اقدامات کو بھی سراہا ہے۔

سعودی کابینہ نے منگل کے روز اس اجلاس میں وزارت صحت کے لیے مختص کردہ نئے بجٹ کی بھی منظوری دی ہے اور کہا ہے کہ مملکت وزارت کو کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے طبی سامان ،آلات ، وینٹی لیٹرز، ٹیسٹنگ آلات اور اضافی بستر وغیرہ مہیا کرنے کی غرض سے تمام ضروری وسائل دے گی۔

ایس پی اے کے مطابق کابینہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے وزارتِ صحت اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جاری کردہ احتیاطی تدابیر اور رہ نما ہدایات پر عمل درآمد کریں۔

سعودی عرب نے منگل تک کرونا وائرس کے 5369 مثبت کیسوں کی تصدیق کی ہے اور اس مہلک وائرس کا شکار 73 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔سعودی حکومت نے مملکت میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے بعض سخت اقدامات کیے ہیں اور بڑے شہروں میں 24 گھنٹے کا کرفیو اور لاک ڈاؤن نافذ کررکھا ہے۔